مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 132

مکتوب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعداس کے واضح ہو کہ آپ کا خط مجھ کو ملا۔آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں کہ اس طرح شک وشبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔شیطان کا کام ہے جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ہرگز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہئے۔گناہ ہے اور یاد رہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا۔اورنہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔ایسی حالت میں بے شک نماز پڑھنا چاہئے اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اصحاب وہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کرتے تھے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر کپڑہ پر منی گرتی تھی تو ہم اس منی خشک شدہ کو صرف جھاڑ دیتے تھے۔کپڑا نہیں دھوتے تھے اور ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لتے پڑتے تھے۔ظاہری پاکیزگی سے معمولی حالت پرکفایت کرتے تھے۔عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے۔حالانکہ مشہور تھا کہ سؤر کی چربی اس میں پڑتی ہے۔اصول یہ تھا کہ جب تک یقین نہ ہو ہر یک چیز پاک ہے۔محض شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی۔اگر کوئی شیرخواربچہ کسی کپڑے پر پیشاب کردے تو اس کپڑے کو دھوتے نہیں تھے۔محض پانی کا ایک چھینٹا اس پر ڈال دیتے تھے۔اورباربار آنحضرت فرمایا کرتے تھے کہ روح کی صفائی کرو صرف جسم کی صفائی اورکپڑے کی صفائی بہشت میں داخل نہیں کرے گی اورفرمایا کرتے تھے کہ کپڑوں کے پاک کرنے میں وہم سے بہت مبالغہ کرنا اور وضو پربہت پانی خرچ کرنا اور شک کو یقین کی طرح سمجھ