مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 130
مکتوبات احمد ۱۳۰ جلد حضرت منشی محمد حسین صاحب کلرک سن بیعت ۱۹۰۴ء حضرت منشی محمد حسین صاحب کا تب ولد میاں نبی بخش صاحب حال مقیم قاد قادیان دارالامان آپ بیان کرتے ہیں کہ میں چھوٹا بچہ ہی تھا۔ قریباے یا ۸ سال کی عمر ہو گی کہ ایک مرتبہ چھوٹے بچے جن میں میں بھی تھا، رات کے وقت کا غذ کی پتلیوں کا تماشہ حضور کے گھر کے صحن میں کر کے کھیل رہے تھے کہ حضور تشریف لائے تو اس وقت میم کا سوانگ ایک لڑکے کو بنایا ہوا تھا تو آپ دیکھ کر خفا ہوئے اور منع فرمایا کہ کسی کی نقل اور سوانگ نہیں بھرنا چاہیے۔ کیونکہ جو کوئی کسی قوم کا مثیل بنتا ہے وہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔ آپ نے منع فرمایا اور روکا۔ اسی طرح ایک دفعہ ایک انگریز اور ایک لیڈی امریکہ سے حضور کی زیارت کے لئے قادیان آئے تو ان دنوں دفتر محاسب بیت المال ابھی نیا نیا بنا تھا۔ یہاں ان کو ٹھہرایا گیا اور حضور کو اطلاع دی گئی۔ حضور کی طبیعت قدرے ناساز تھی۔ لمبا چغہ اور کمر میں پڑکا پہن کر تشریف لائے۔ انگریز سے حضور نے مصافحہ کیا لیکن لیڈی سے مصافحہ نہ کیا۔ جس پر وہ شکستہ خاطر ہو گئی۔ پھر اسے سمجھایا گیا کہ اسلام میں نامحرم عورتوں سے مصافحہ کرنا نا جائز ہے۔ ترجمان حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کا مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ہاں اس پر انگریز نے پوچھا۔ آپ کا کوئی نشان ۔ اور معجزہ تو حضور نے فرمایا کہ آپ کا یہاں قادیان میں آنا بھی میرانشان اور معجزہ ہے کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے خبر دی ہوئی ہے کہ دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ یہاں قادیان میں کوئی سیرگاہ نہیں ۔ دارالخلافہ نہیں۔ بڑا شہر نہیں۔ تجارتی منڈی نہیں ۔ محض ایک گاؤں ہے۔ آپ کس واسطے تشریف لائے ہیں۔ محض میری خاطر آپ آئے ہیں۔ یہ آپ کا آنا میرا ایک نشان اور معجزہ ہے۔ پھر میاں عبدالحی مرحوم چھوٹے بچے تھے غالباً چھ سات سال کے ہوں گے۔ خدا ان کی مغفرت کرے اور جنت میں جگہ دے۔ وہاں موجود تھے۔ ان کو پیش کیا گیا۔ حضور نے فرمایا کہ یہ لڑکا میری دعا سے پیدا ہوا ہے اور پیدا ہونے سے پہلے مجھے میرے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی کہ اس کے جسم پر داغ