مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 105

مکتوبات احمد ۱۰۵ جلد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مکتوب نمبرا L امر اول کا جواب یہ ہے کہ نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت ہے کہ جو شخص خدا اور رسول کے وصایا اور احکام کی سرکشی کرے گا۔ وہ قیامت کو قابل مواخذہ ہوگا اور مجرموں میں شمار کیا جائے گا۔ قال الله تعالى - أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ اور دوسری جگہ فرماتا ہے فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَقَّى ۔ لَا يَصْلُهَا إِلَّا الْأَشْقَى ۔ الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى اور فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْتِهِ ۔ اور پھر فرمایا تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كُلِحُوْنَ أَلَمْ تَكُنْ ايَتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ پر مسیح موعود کا آنا خدا اور رسول کی طرف سے ایک خبر دے رکھی تھی اور اطاعت کے لئے وصیت تھی۔ اس سے انکار کیوں موجب مواخذہ نہ ہو۔ ایسا ہی حدیثوں میں ہے کہ مسیح اور مہدی جب ظاہر ہوگا تو ہر یک کو چاہئے کہ اس کی طرف دوڑے۔ اگر چہ گھٹنوں کے بل جانا پڑے اور آیا ہے کہ جو شخص اس کو تسلیم اور قبول نہیں کرے گا تو خدا اس سے مواخذہ کرے گا اور آپ کا یہ استفسار کہ خدا تعالیٰ جو کچھ کسی نبی یا رسول کو الہام کرتا ہے اس کے معنے کھول دیتا ہے۔ ایسا دعوی تو قرآن کے برخلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں صاف فرماتا ہے کہ بعض آیات بینات ہیں جن میں تصریح کی گئی ہے اور بعض متشابہات ہیں جس کی حقیقت کسی پر کھولی نہیں گئی۔ ویسا ہی مقطعات قرآنی ہیں۔ اور احادیث سے ثابت ہے کہ بعض آیات کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں وقت فلاں آیت کے معنے مجھ پر کھلے۔ پہلے معلوم نہ تھے اور نیز احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں بے شمار عجائبات ہیں جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوں گے۔ ان تمام آیات سے علم ہوتا سے علم ہوتا ہے کہ نبی بھی بموج نبی بھی بموجب آیت لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ایک حد تک کتاب اللہ کا علم رکھتے تھے۔ نہ کہ خدا کے برابر ۔ والسلام ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ لى النساء : ۲۶۰ الیل: ١٦ ٣ الاعراف : ۳۸ المومنون : ۱۰۶،۱۰۵ ۵ البقرة: ۳۳ الفضل نمبر ۲۵۲ جلد ۳۱ مورخه ۲۷ راکتو بر ۱۹۴۳ء صفحه ۳