مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 83
مکتوبات احمد ۸۳ جلد چهارم رض حضرت میاں ابراہیم صاحب حضرت میاں ابراہیم رضی اللہ عنہ پنڈوری ڈومیلی سوہاوا چکوال روڈ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد صاحب کا نام میاں عمر بخش تھا جو کہ سات پشتیں قبل جد امجد نور الدین در بارا کبری میں آئے تھے جبکہ مدینہ منورہ سے سعد الدین نے افغانستان کی طرف ہجرت کی تھی ۔ محلہ خواجگان ( جسے اب محلہ سیٹھیاں کہتے ہیں ) میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد صاحب کا گھر جہلم میں چوک اہلحدیث کے نزدیک محلہ خواجگان میں تھا۔ اس گھر کا ایک حصہ آپ کی اولاد کے پاس ہے ۔ نمک ، گاچنی مٹی اور کچے برتنوں کا کاروبار کرتے تھے ۔ آپ کی بیعت ابتدائی ایام کی ہے ۔ آپ اس بات کے قائل تھے کہ یہ زمانہ ظہور امام کا ہے اور تلاش مسیح میں افغانستان چلے گئے وہاں کسی نے بتایا کہ قادیان پنجاب کے گاؤں میں کسی نے دعوی کیا ہے چنانچہ پوچھتے پوچھتے قادیان چلے آئے اور حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔ جب حضرت مسیح موعود جہلم تشریف لائے اور جہلم کے ریلوے اسٹیشن پر اُترے تو میاں ابراہیم صاحب حضرت اقدس کے یکے کے آگے خوشی سے اچھلتے تھے اور اپنی پگڑی فضا میں لہراتے اور اوپر پھینک کر پکڑتے اور نعرے لگاتے ۔ مرزا غلام احمد کی جے ۔ آپ کے ساتھ مولوی برہان الدین جہلمی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں میاں صاحب کے بیٹے عبد الحق کی بن ران میں گلٹی نکل آئی۔ غیر احمدی سیٹھی برادری نے طعنہ دیا کہ تم مرزا صاحب کی سچائی کی دلیل طاعون دیتے ہو۔ اس