مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 74
ظاہر فرمایا گو کہ میںتمام خرچ روانگی وغیرہ بہم پہنچایا اور جانے کے لئے ایک روز باقی تھا کہ حضرت قبلہ جنابہ سردار بیگم صاحبہ جو کہ میری مشفق اور چاہتی ماں ہیں انہوں نے بوجہ جدائی و سفر دور دراز سخت مضطرب و بدحال ہوگئے اور مانع بھی ہوئے۔پس باایں نصیحت حضرت اقدس کہ (جو شخص اپنے ماں باپ کی اطاعت نہ کرے وہ میری مریدی سے خارج ہے۔دیکھو کشتی نوح)جانے سے باز رہا اور کچھ نذرانہ خدمت اقدس میں بذریعہ مولوی صاحب موصوف معہ ایک عریضہ شوق و نیزیک عریضہ بایں بیان کہ میری ہمشیرہ یعنی غریب النساء بیگم عرف حاجی بیگم صاحبہ بیعت میں داخل ہوتے ہیں لہٰذا حضور شریک فرما کر خاص اپنے دستخط خاص سے کچھ نصیحت وغیرہ تحریر فرما کر غلام کو سرفراز فرمائیں معہ نذر روانہ خدمت کیا تھا چنانچہ مولوی صاحب موصوف جب کہ لاہور پہنچ گئے تو میرا و نیز ہمشیرہ صاحبہ کا عریضہ بمعہ نذر حضرت کی خدمت میں پیش کیا جس پر حضور نے نذر قبول فرما کرخاص اپنے دستِ مبارک سے بتاریخ ۱۸؍ مئی ۱۹۰۸ء اپنی وفات کے نو روز قبل بمقام لاہور عزیز منزل میں یہ جواب تحریر فرمایا ہے جس کی نقل صفحہ۶۶ کتاب ہذا پر ہے۔‘‘ نوٹ نمبر۲ از مولوی سید بشارت احمد صاحب ایڈووکیٹ و امیر جماعت احمدیہ حیدر آبا د دکن گو کہ میں نے ۱۹۰۶ء میں اپنے گھر میں سب سے پہلے بیعت کی اور حضور کی زندگی تک کثرت سے عرائض دعا کے لئے لکھتا رہااور اپنے پتہ سے پوری طرح اطلاع نہ دے سکا تو میرے خطوط کے جواب میں جو خطوط حضور بھجواتے تھے محض واپس جانے سے اور اخبار میں میرے کو تسلّی دینے کے لئے چھپوا دیا جاتا رہا کہ دعائیہ خطوط بھیجتے ہیں اور دعا کی جاتی ہے بوجہ طفولیت میں اپنے پتہ خطوط میں نہیں لکھا کرتا تھا ورنہ جوابات مجھے وصول ہوتے۔میری ہمشیرہ کا خواب: میری ہمشیرہ نے ایک خواب دیکھا کہ ایک بزرگ جن کا رتبہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کا ہے میرے گھر تشریف لا کر چنبیلی کے منڈوے کے پاس جو کہ میرے صحن میں تھا کھڑے تھے اتنے میں میری ہمشیرہ ان کی بیعت کے لئے میرے کمرہ میں