مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 549
کے بغیر لیے گئے ہوں جیسے چوری یا راہزنی یا ڈاکہ۔کہ یہ مال کسی طرح سے بھی خدا اور دین کے کاموں میں بھی خرچ کرنے کے لائق نہیں لیکن جو مال رضامندی سے حاصل کیا گیا ہو وہ خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں خرچ ہو سکتا ہے۔دیکھنا چاہیے کہ ہم لوگوں کو اس وقت مخالفوں کے مقابل پر جو ہمارے دین کے ردّ میں شائع کرتے ہیں کس قدر روپیہ کی ضرورت ہے۔گویا یہ ایک جنگ ہے جو ہم ان سے کر رہے ہیں۔اس صورت میں اس جنگ کی امداد کے لئے ایسے مال اگر خرچ کیے جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔یہ فتویٰ ہے جو میں نے دیا ہے۔اور بے گانہ عورتوں سے بچنے کے لئے آنکھوں کو خوابیدہ رکھنا اور کھول کر نظر نہ ڈالنا کافی ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا۔یہ تو شکر کی بات ہے کہ اس سلسلہ کی تائید میں آپ ہمیشہ اپنے مال سے مدد دیتے رہتے ہیں۔اس ضرورت کے وقت یہ ایسا کام ہے جو میرے خیال میں خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لئے نہایت اقرب طریق ہے۔سو شکر کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دے رکھی ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ہمیشہ آپ اس راہ میں سرگرم ہیں۔ایسے عملوں کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے۔وہی جزا دے گا ہاں ماسوا اس کے دعا اور استغفار میںبھی مشغول رہنا چاہیے باقی خیریت ہے۔۲۴؍اپریل ۱۹۰۰ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان سوُد کی اشاعت دین میں خرچ کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی انسان عمداً اپنے تئیں اس کام میں ڈالے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری سے جیسا کہ آپ کو پیش ہے یا کسی اتفاق سے کوئی شخص سوُد کے روپیہ کا وارث ہو جائے تو وہ روپیہ اس طرح پر جیسا کہ میں نے بیان کیا خرچ ہو سکتا ہے۔اور اس کے ساتھ ثواب کا بھی مستحق ہو گا۔