مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 49

سکتاہے وہ نقلیں جو حضور کی خدمت میں ارسال کی تھیں وہ کاپی میں آگئی ہیں کچھ مسودہ اِدھر اُدھر منتشر ہے۔مہتمم چھاپہ خانہ اس کے جمع کرنے کی فکر میں ہے۔فراہم ہو جانے کے بعد ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جاوے گا۔دعا کریں کہ جیسے پہلے نقل حاصل کرنے میں خدا نے مجھے کامیاب کیا تھا ایسا ہی اب بھی کامیاب کرے جواب سے ممنون فرماویں۔عاجز کا بڑا بچہ اور منجھلے سے چھوٹا بیمار ہیں اور عاجز کی اور عاجز کی بیوی کی بھی صحت درست نہیں ہے۔حضور خاص توجہ سے دعا کریں کہ شافی مطلق پوری پوری صحت بخشے۔والسلام مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۶ء عاجز قاضی عبدالرحیم نقشہ نویس محکمہ نہر از جموں میں نے اس میں کسی کی شکایت نہیں کی اور نہ ایڈیٹر صاحب پر شاکی ہوں جو کچھ مقدر ہوتا ہے ہو گزرتا ہے۔صرف اصلیت امر کو ظاہر کیاہے۔اس خط پر حضور نے اپنی قلم مبارک سے تحریر فرمایا: مکتوب نمبر۱۱ژ اس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے اور اس کا جواب لکھ دیا جاوے کہ اب صبر سے خدا تعالیٰ پر توکّل کریں۔دعا کی جائے گی۔والسلام مرزا غلام احمد نوٹ: (۱) مکرم قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی ذکر کرتے تھے کہ میرے بھائی کو ۱۹۴۷ء میں اچانک اپنے گھر سے نکلنا پڑا۔بعد ازاں قادیان کا ایک سکھ دوست آیا اور کہنے لگا کہ گھر سے کچھ لانا ہے تو میرے ساتھ چلیں۔بھائی گئے اور صرف وہ تھیلا لائے جس میں یہ مکتوبات تھے۔یقینا حضورؑ کے ارشاد کے باعث کہ ’’اس خط کو بہت محفوظ رکھاجائے‘‘۔حضور کے اور صحابہؓ کرام کے کئی مکتوبات بچ گئے۔(۲) اس مقدمہ کے متعلق قاضی عبدالرحیم صاحب نے قاضی عبدالسلام صاحب کو بتایا کہ ’’اس مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کے متعلق یہ واقعہ ہوا کہ عین اس تاریخ جس دن دعویٰ دائر ہونا تھا اور سب تیاری ہر طرح سے مکمل ہو چکی تھی تو علی الصبح پتہ لگا کہ وہ عورت اپنے آشنا کے ساتھ غائب ہوگئی اور اس طرح ان مخالفوں کی ساری کارستانی پر پانی پھر گیا‘