مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 49
مکتوبات احمد ۴۹ جلد چهارم سکتا ہے وہ نقلیں جو حضور کی خدمت میں ارسال کی تھیں وہ کاپی میں آگئی ہیں کچھ مسودہ اِدھر اُدھر منتشر ہے۔ مہتم چھا پہ خانہ اس کے جمع کرنے کی فکر میں ہے۔ فراہم ہو جانے کے بعد ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جاوے گا ۔ دعا کریں کہ جیسے پہلے نقل حاصل کرنے میں خدا نے مجھے کامیاب کیا تھا ایسا ہی اب بھی کامیاب کرے جواب سے ممنون فرماویں۔ عاجز کا بڑا بچہ اور منجھلے سے چھوٹا بیمار ہیں اور عاجز کی اور عاجز کی بیوی کی بھی صحت درست نہیں ہے۔ حضور خاص توجہ سے دعا کریں کہ شافی مطلق پوری پوری صحت بخشے ۔ مورخه ۲۶ رمتی ۱۹۰۶ء والسلام عاجز قاضی عبدالرحیم نقشہ نویس محکمہ نہر از جموں میں نے اس میں کسی کی شکایت نہیں کی اور نہ ایڈیٹر صاحب پر شا کی ہوں جو کچھ مقدر ہوتا ہے ہو گزرتا ہے ۔ صرف اصلیت امر کو ظاہر کیا ہے ۔ اس خط پر حضور نے اپنی قلم مبارک سے تحریر فرمایا : مکتوب نمبر ا ا اس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے اور اس کا جواب لکھ دیا جاوے کہ اب صبر سے خدا تعالیٰ پر تو گل کریں ۔ دعا کی جائے گی ۔ والسلام مرزا غلام احمد نوٹ : (۱) مکرم قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی ذکر کرتے تھے کہ میرے بھائی کو ۱۹۴۷ء میں اچانک اپنے گھر سے نکلنا پڑا۔ بعد ازاں قادیان کا ا دیان کا ایک سکھ دوست آیا اور کہنے لگا کہ گھر سے کچھ لانا ہے تو میرے چلیں ۔ بھائی گئے اور صرف وہ تھیلا لائے جس میں یہ مکتوبات تھے ۔ یقیناً حضور کے ارشاد کے باعث کہ اس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے ۔ حضور کے اور صحابہ کرام کے کئی مکتوبات بچ گئے ۔ ساتھ (۲) اس مقدمہ کے متعلق قاضی عبدالرحیم صاحب نے قاضی عبدالسلام صاحب کو بتایا کہ اس مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کے متعلق یہ واقعہ ہوا کہ عین اس تاریخ جس دن دعوی دائر ہونا تھا اور سب تیاری ہر طرح سے مکمل ہو چکی تھی تو علی الصبح پتہ لگا کہ وہ عورت اپنے آشنا کے ساتھ غائب ہوگئی اور اس طرح ان مخالفوں کی ساری کارستانی پر پانی پھر گیا“۔