مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 50
مکتوب نمبر۱۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ مخدومی مکرمی اخویم سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ آپ کی خواب انشاء اللہ تعالیٰ نہایت مطابق واقعہ اور درست معلوم ہوتی ہے اور تعبیر صحیح ہے جن لوگوں کو تاویل رویا کا علم نہیں ان کو ان تعبیرات میں کچھ تکلف معلوم ہو گا۔مگر صاحب تجربہ خوب جانتا ہے کہ رویا کے بارے میں اکثر عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ حقیقت کو ایسے ایسے پیرایوں اور تمثلات میں بیان فرماتا ہے۔مسلمؓ نے انسؓ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خواب دیکھی کہ عقبہ بن رافع کے گھر جو کہ ایک صحابی تھا۔آپ تشریف رکھتے تھے۔اسی جگہ ایک شخص طبق رطب ابن طاب کا لایا اور صحابہ کو دیا اور رطب ابن طاب ایک خرما کا قسم ہے کہ جس کو ابن طاب نام ایک شخص نے پہلے پہل کہیں سے لا کر اپنے باغ میں لگایا تھا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی تعبیر کی کہ دنیا و آخرت میں صحابہ کی عاقبت بخیر و رفعت ہے اور حلاوت ایمان سے وہ خوش حال اور متمتع ہیں۔سو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے عقبہ کے نام سے عاقبت کا نام نکالا اور رفع خدا کا نام ہے۔اس سے رفعت سمجھ لی اور خرماء کی حلاوت سے حلاوت ایمان کی اور ابن طاب میں طاب کالفظ ہے جس کے معنے ہیں خوشحال ہوا۔پس اس سے خوشحال ہونے کی بشارت سمجھ لی۔عرض تعبیر رویا میں ایسی تاویل واقعی اور صحیح ہے۔آپ کے خواب کی بہت عمدہ بشارت ہے۔محافط دفتر کے لفظ سے یاد آتا ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالیشان حاکم یا بادشاہ کا ایک جگہ خیمہ لگا ہوا ہے اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہو رہے ہیںاور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ دفتر کا عہدہ رکھتا ہے اور جیسے دفتروں میں مسلیں ہوتی ہیں۔بہت سی مسلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ دفتر کی طرح ہے۔اتنے میں ایک آدمی دوڑا آیا کہ مسلمانوں کی مسل پیش ہونے کا حکم ہے۔وہ جلد نکالو۔پس یہ رویا بھی دلالت کر رہا ہے کہ عنایات الٰہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں اور یقین کامل ہے اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئی ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنی خاص برکات سے متمتع کرے گا کہ ہر ایک برکت ظاہری اور باطنی اسی کے ہاتھ میں ہے۔اس عاجز نے پہلے لکھ دیا تھا کہ آپ اپنے تمام اوزار مغمولہ کو بدستور لازم اوقات رکھیں۔صرف ایسے طریقوں سے پرہیز چاہیے جن میں کسی نوع کا شرک بابدعت ہو۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و سلم سے اشراق پر مداومت ثابت نہیں۔تہجد کے فوت ہونے پر یا سفر سے واپس آکر پڑھنا ثابت ہے لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا۔عین سنت ہے۔وَاذْکُرُوااللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔٭