مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 48
ماشاء اللہ ان کو تو خدا خدا کر کے ایسے موقعے ہاتھ لگتے ہیںاب بھلا وہ کس طرح درگزر کریں۔اصل مضمون میں یہ الفاظ ہیں۔’’اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کے الزام لگاتے ہیں ممکن ہے وہ اس کی زندگی میں بھی خراب ہو‘‘۔یعقوب مسیحی سے میں نے یہ سنا تھا لیکن اب وہ انکاری ہے اور ثبوت طلب کرتا ہے۔یہی عیسائی اور مسلمان اس پر تُلے ہوئے ہیں کہ عورت کی طرف سے فوجداری مقدمہ کرایا جاوے آج کل میں مقدمہ دائر کرنے والے ہیں پیروی کے واسطے ایک بڑی کمیٹی مقرر ہوئی ہے بظاہر ان کے باز رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۱۹؍ فروری کا الہام ’’ عورت کی چال۔ایلی ایلی لما سبقتانی۱؎ ‘‘ شاید یہی چال نہ ہو۔میں دین کے کام میں لڑنے اور تکلیف سے نہیں ڈرتا۔صرف ناداری اور عیالداری کی وجہ سے خوف ہے اس وقت میرے پاس کوئی سرمایہ نہیں جو مقدمہ میں کام آئے اور مقدمہ کی ایک پیشی بھی سرمایہ بغیر بھگتی نہیں جا سکتی۔اس لئے یہ مقدمہ میرے لئے سخت ابتلا ہے۔حضور خاص توجہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عورت کے شر سے بچالے۔بھروسہ ہے تو صرف اس کی ذات بابرکات پر ہے۔نرے مادی اسباب بھی کارگر نہیں ہوا کرتے۔بواپسی جواب (سے ۲؎ ) سرفراز کریں کہ کیا تجویز کی جاوے۔کیونکہ آج کل میں مقدمہ جاری ہونے والا ہے۔دیگر عرض ہے کہ شیخ رحیم بخش صاحب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ چراغ دین کی کتاب چھپوانے کے واسطے حضور نے سخت تاکید کی ہے سو عرض ہے کہ میں مہتمم چھاپہ خانہ کے اس غرض سے کئی دفعہ گیا ہوں اس سے یہی معلوم ہوا کہ اب چھپنے کی تجویز ملتوی ہوگئی ہے۔ان کے پاس روپیہ نہیں اور میں خود اس لئے نہیں چھاپتا کہ یہ کوئی مفید کتاب نہیں جو دست بدست فروخت ہو سکے۔آخر میں نے اسے بہت کچھ طمع و ترغیب دے کر چھاپنے پر آمادہ کر لیا ہے کل لاگت کوئی یا روپیہ تک ہوگی جس کے ادا کرنے کے واسطے میں نے اس سے عہد کر لیا ہے۔کچھ کتب حق تصنیف میں دی جائیںگی اور کچھ کتب مہتمم چھاپہ خانہ کی نذر ہونگی۔اگر خریدار پیدا ہو جاویں تو باقی ماندہ کتب فروخت کر کے لاگت کا کچھ حصہ وصول ہو ۱؎ تذکرہ صفحہ ۵۰۹ مطبوعہ ۲۰۰۴ء ۲؎ خطوط وحدانی کا لفظ مرتب کی طرف سے ہے۔