مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 498
اس نے نہ صرف حسنِ معاشرت میں فرق دکھلایا بلکہ دھوکہ بھی دیا اس لئے مہر ضرور واجب الادا تھا۔مگر ان باتوں کو خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ فریقین میں سے سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔اس لئے یہ فیصلہ نہایت عمدہ اور صحیح ہے کہ صفیہ کا مہر ضائع ہوا اور میاں عبدالحنان کا زیور۔دونوں کی بدقسمتی ہے کہ اس رشتہ کا ایسا منحوس انجام ہوا۔کچھ شامتِ اعمال ہے توبہ استغفار کرنا چاہیئے۔مجھے نہ صفیہ کی کچھ رعایت ہے نہ عبدالحنان سے کچھ فرق ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور مجھے اس رشتہ کے ٹوٹنے پر افسوس ہے کہ ناحق شماتتِ اعداء کا موجب ہوا۔البتہ مرد اس قدر قابل ملامت ہے کہ اگر مرد سے جیسا کہ شرط ہے آثار محبت اور حسن معاشرت ظاہر ہوں تو کبھی ممکن نہیں کہ عورت اس سے علیٰحد گی چاہے۔خیر ہرچہ شد شکوہ۔الخیر فیما وقع۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر۴ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبیّ مکرمی اخویم مولوی غلام حسین۱؎ صاحب سلّمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس سے پہلے اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے برخوردار محمود احمد کے رشتہ ناطہ کے لئے عام دوستوں میں تحریک کی تھی اور آپ کے خط کے پہنچنے سے پہلے ایک دوست نے اپنی لڑکی کے لئے لکھا اور محمود نے اس تعلق کو قبول کر لیا تھا بعد اس کے آج تک میرے دل میں تھا کہ بشیر احمد اپنے درمیانے لڑکے کے لئے تحریک کروں جس کی عمر دس ۱۰دس۱۰ برس کی ہے اور صحت اور متانت مزاج اور ہر یک بات میں اس کے آثار اچھے معلوم ہوتے ہیں اور آپ کی تحریر کے موافق عمر بھی باہم ملتی ہے اس لئے یہ خط آپ کو لکھتا ہوں اور میں قریب ایام میں اس بارے میں استخارہ ۱؎ مراد ’’حسن‘‘ ہے۔ناشر