مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 43

نوٹ : اس مکتوب میں ’’بہو‘‘ سے مراد محترمہ صالح بی بی صاحبہ مرحومہؓ اہلیہ محترم قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی ؓہیں۔موصوفہ نے ۱۳؍ نومبر ۱۹۵۰ء کو راولپنڈی میں وفات پائی اور امانتاً دفن ہوئی۔آپ کے بیٹے محترم قاضی عبدالسلام صاحب تابوت کو جو قدرت خداوندی سے بالکل محفوظ تھا ربوہ لے آئے اور ۹؍ فروری ۱۹۵۴ء کو انہیں بہشتی مقبرہ میں اپنے خاوند کے دائیں جانب دفن کر دیا گیا۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہِ ذرہ نوازی بعد ظہر جنازہ پڑھایا اس سے قبل بھی ان کی وفات پر مسجد مبارک ربوہ میں نماز جمعہ کے بعد جنازہ غائب پڑھا تھا۔سو مرحومہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ دو دفعہ خلیفۂ وقت نے ان کا جنازہ پڑھا۔(مرتب) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ۱؎ مراد مطبع ضیاء الاسلام ہے جو مطب حضرت خلیفہ اوّلؓ سے ملحق جانب جنوب تھا اور خلافت ثانیہ میں بطور گیراج استعمال ہوتا رہا۔اب بھی گیراج کی شکل میںموجود ہے (مطب اور پریس کے نقشہ کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد دوم صفحہ۱۶؍۱۶) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ بعد ازاں حضرت قاضی صاحبؓ مہمان خانہ کے اس کمرہ میں جلد سازی کی دکان کرتے رہے جو نلکا کے پاس جانب شمال ہے اور اس کا ایک دروازہ احمدیہ بازار میں کھلتا ہے۔۲؎ مراد حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب بھیرویؓ ہیں جو مطبع ضیاء الاسلام قادیان کے مہتمم تھے اور حضور کے جواب میں ان کا ذکر ہے۔