مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 472

کہ حکیم عبد العزیز خان صاحب میں دو خصوصیتیں تھیں۔ایک تو آپ حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابی تھے۔دوسرے ان کو حضرت مسیح موعود ؑ کے خاندان سے خاص طور پر محبت تھی اور یہ فخر بھی ان کو حاصل تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی اولاد اور پھر آگے ان کی اولاد کو بھی پڑھاتے رہے۔آپ حضرت مسیح موعود ؑ کے بچوں سے کبھی سختی سے بھی پیش آتے تو کوئی اس پر برُا نہ مناتا اور وہ ہمیشہ اپنے رنگ میں کہا کرتے تھے۔’’میں نے تینوں بھی پڑھایا تے تیرے پیو نوں بھی پڑھایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عزت بخشی تھی ، اس لئے ان کو یہ بات کہنے کا حق تھا۔ان کو طب کا شوق تھا اس لئے سکول سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد آپ نے ’’طبیہ عجائب گھر‘‘ کی بنیاد ڈالی اور نہایت ایمانداری سے اسے چلایا کہ قادیان اور باہر سے بھی احباب ان سے دیسی ادویات منگواتے۔(بحوالہ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ۹؍فروری ۱۹۴۶ء) آپ کی وفات ۲۹؍جنوری ۱۹۴۶ء کو قادیان میں ہی ہوئی۔تقریباً ۶۶ سال کی عمر میں۔آپ کی وصیت کا نمبر۳۴ تھا۔آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں ہی مدفون ہیں۔فہرست مکتوبات بنام حضرت ماسٹر عبد العزیز صاحب ایمن آبادیؓ مکتوب نمبر تاریخ تحریر صفحہ ۱ بلا تاریخ ۴۷۳ ۲ بلا تاریخ ۴۷۳ ۳ بلا تاریخ ۴۷۳ ۴ بلا تاریخ ۴۷۴ ۵ بلا تاریخ ۴۷۴