مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 471
حضرت ماسٹر عبد العزیز صاحب ایمن آبادیؓ حضرت حکیم عبد العزیز خان صاحبؓ کی پیدائش ۱۸۸۰ء میں ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ کی ہے۔آپ ککے زئی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ایمن آباد کی وجہ سے ایمن آبادی مشہور ہوئے۔حکیم عبد العزیز خان صاحب مالک ’’طبیہ عجائب گھر قادیان‘‘ کے طور پر بھی مشہور ہیں۔آپ ۱۹۰۴ء میں قادیان آئے اور ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود ؑ کے دست ِ مبارک پر بیعت سے مشرف ہوئے۔محمود عرفانی صاحب اپنی کتاب سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگمؓ صفحہ۳۸۱ ، ۳۸۲ و مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب میں رقمطراز ہیں کہ حکیم عبد العزیز خان صاحب کو حضرت مسیح موعود ؑ کے بچوں کی تعلیم میں ابتدائی حصہ لینے کا شرف ان کو حاصل ہے اور اس طرح نہایت قریب سے حضرت ام المؤمنین ؓ کے اخلاق و عادات کے مشاہدہ کا ان کو موقع ملا۔صاحبزادگان کی تعلیم کے سلسلہ میں ان کو حضرت صاحب کے الدار میں ایک کمرہ ملا ہوا تھا اس کے ساتھ ایک قنات ہوتی تھی۔جہاں آپ بچوں کو پڑھاتے تھے۔حضرت امّ المؤمنین ؓ آپ کی ضروریات کا خاص طور پر خیال رکھتی تھیں اور گھر میں جو بھی تحفہ از قسم پھل مٹھائی وغیرہ آتا اس میں سے ان کو بھی ضرور حصہ دیا کرتی تھیں۔حکیم صاحب کی اہلیہ کی وفات کے بعد ان کی ایک بیٹی عائشہ اور ایک بیٹے کو حضرت اماں جان نے اپنے پاس رکھا اور اپنی نگہداشت میں پرورش فرمائی اور آپ کی بیٹی کی خود شادی ۱۹۲۶ء میں فرمائی اور شادی پر کچھ جہیز تحفہ میں دیا۔بلکہ حضرت امّ المؤمنینؓ نے آپ کی بیٹی کو مبلغ ۶۰ (ساٹھ روپے) کا طلائی گلو بند جو غالباً ۳ تولے خالص سونے کا تھا تحفۃً عطا فرمایا۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اپنے ایک مضمون میں ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں