مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 42
صورت میں فکر موت بہت مقدم ہے تا حسرت کے ساتھ جان نہ نکلے۔خدا تعالیٰ آپ کو ہر ایک نیک کام کی قوت بخشے اور اپنی محبت میں ترقی عطا کرے۔آمین۔آتھم کی پیش گوئی کی نسبت ایک مبسوط رسالہ اسی جگہ قادیان میں چھپ رہا ہے۔یہ رسالہ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ الْقَدِیْرُ۔دو ماہ تک شائع ہوگا۔پھر اس عرصہ کے بعد یاد دلانا چاہئے۔تمام دوستوں کو السلام علیکم۔٭ ۲۸ ؍ اپریل ۱۸۹۵ء خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر۸ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم قاضی صاحب سلّمہُ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ تشریف لاویں آپ کی بہو کے لئے اگر ساتھ لے آویںتین چار ماہ تک کوئی بوجھ نہیں۔ایک یا دو انسان کا کیا بوجھ ہے۔پھر تین چار ماہ کے بعد شاید آپ کے لئے اللہ تعالیٰ اس جگہ کوئی تجویز کھول دے۔وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ۔۱؎ سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ ہمارا اور آپ کی عمر کا آخری حصہ ہے بھروسہ کے لائق ایک گھنٹہ بھی نہیں ایسا نہ ہو کہ جدائی کی موت موجب حسرت ہو۔موت انسان کے لئے قطعی حکم ہے اور اس جگہ موت سے ایک جماعت میں نزول رحمت کی امید ہے۔غرض ہماری طرف سے نہ صرف آپ کو اجازت بلکہ یہی مراد ہے کہ آپ اس جگہ رہیں۔ہماری طرف سے روٹی کی مدد دوانسان کے لئے ہو سکتی ہے اور دوسرے بالائی اخراجات کے لئے آپ کوئی تدبیر کر لیں اور امید ہے کہ خدا کوئی تدبیر نکال دے۔زیادہ خیریت ہے۔۳؍ دسمبر ۱۹۰۰ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ٭ الحکم نمبر۱۲، ۱۳ جلد۲ مورخہ ۲۰،۲۷؍مئی ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۱ ۱؎ الطلاق : ۴ نوٹ : اس مکتوب میں ’’بہو‘‘ سے مراد محترمہ صالح بی بی صاحبہ مرحومہؓ اہلیہ محترم قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی ؓہیں۔موصوفہ نے ۱۳؍ نومبر ۱۹۵۰ء کو راولپنڈی میں وفات پائی اور امانتاً دفن ہوئی۔آپ کے بیٹے محترم قاضی عبدالسلام صاحب تابوت کو جو قدرت خداوندی سے بالکل محفوظ تھا ربوہ لے آئے اور ۹؍ فروری ۱۹۵۴ء کو انہیں بہشتی مقبرہ میں اپنے خاوند کے دائیں جانب دفن کر دیا گیا۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہِ ذرہ نوازی بعد ظہر جنازہ پڑھایا اس سے قبل بھی ان کی وفات پر مسجد مبارک ربوہ میں نماز جمعہ کے بعد جنازہ غائب پڑھا تھا۔سو مرحومہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ دو دفعہ خلیفۂ وقت نے ان کا جنازہ پڑھا۔(مرتب) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ بحضور امامنا و حبیبنا بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرضداشت آنکہ مہدی حسین صاحب رخصت سے واپس آگئے ہیں۔اب عاجز کے واسطے کیا حکم ہے یہاں کوچہ میں جلد بندی کی بہت چیزیں لڑکے بے خبر اُٹھالے جاتے ہیں کوئی چیز محفوظ نہیں رہتی۔اس سے پہلے یہ عاجز چھاپہ خانہ۱؎ کے مشرقی دروازہ میں حکیم صاحب کے حکم سے بیٹھتا رہاہے۔۲؎ چونکہ اور کوئی ایسی جگہ موجود نہیں لہٰذا سال بھر سے زیادہ وہیں گزارہ ہوتا ہے کیا اب بھی وہیں اجازت دیتے ہیں یا کوئی اور جگہ جو عاجز کے حال کے موزوں ہو۔دراصل جگہ کے بارہ میں عاجز از حد مضطر ہے۔گھر کی نسبت یہ حال ہے کہ پرسوں ڈپٹی کے بیٹے نے بذریعہ ڈاک نوٹس۱؎ دیا ہے کہ ایک ہفتہ تک مکان خالی کر دو ورنہ تین روپیہ ماہوار کرایہ مکان واجب الادا ہوگا۔اس دقّت کے رفع کے لئے بھی حضور دعا فرماویں کہ بے منت غیرے کوئی جگہ مولا کریم میسر کرے۔۱۷؍ جولائی ۱۹۰۲ء والسلام والاکرام عریضہ نیاز مسکین ضیاء الدین عفی عنہ