مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 447

حضرت شیخ عبد الوہاب صاحبؓ (نومسلم) آپ کے والد صاحب کا نام پنڈت چندو لال تھا اور آپ چار بھائیوں میں سے تیسرے نمبر پر تھے۔سن شعور کو پہنچے تو سکول جانا شروع کر دیا۔سکول میں ایک دن ایک لڑکے نے کہا کہ ایک مسلمان لڑکے نے شوجی مہاراج (ایک پتھر کا بت)کو اینٹ ماری تو اس کے سر سے گھڑوں خون بہہ گیا۔کہتے ہیں کہ یہ بات سن کر مجھ کو یقین نہ آیا چنانچہ میں نے خود شوجی مہاراج کے سر میں اینٹیں ماریں مگر خون نہ نکلا۔اس واقعہ کے بعد سے میرا دل اس مذہب سے بیزار ہونا شروع ہو گیا۔چنانچہ انہوں نے آٹھویں جماعت میں ہیسکول چھوڑ دیا اور والد صاحب کے پنڈت ہونے کی وجہ سے پنڈتائی، جنم پتری، برس پھل اور ٹیوہ وغیرہ بنانے میں خاص ملکہ پیدا ہو گیا اور اس کام میں کافی شہرت حاصل کی۔حضرت شیخ صاحب ایک نیک سیرت بزرگ حاجی امیر محمد صاحب (جو مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں) کی خدا ترسی اور نیک اخلاق سے بہت متأثر ہوئے اور ان کے نیک نمونے کی وجہ سے اسلام کی چند کتب مطالعہ کیں جنہوں نے ان کے دل کی کایا پلٹ دی اور آپ ہندوازم چھوڑ کر علی الاعلان مسلمان ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد ایک آریہ برہمن سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس نے اسلام پر کچھ اعتراضات کئے جن کے جوابات کے لئے آپ مختلف مسلمان علماء کے پاس گئے مگر کسی سے بھی تسلی بخش جواب نہ ملنے کی وجہ سے بہت دلبرداشتہ ہوئے اور اسلام چھوڑ کر دوبارہ شدھی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔جب آپ نے شدھی ہونے کے لئے لاہور کا سفر شروع کیا تو راستے میں خیال آیا کہ