مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 40
مکتوبات احمد ۴۰ جلد چهارم میں انشاء اللہ القدیر آپ کو روحانی فائدہ ہوگا اور قاضی صاحب کے لئے بھی بہتر ہوگا۔ انسان جس چیز کا قصد کرتا ہے خدا تعالیٰ وہ میسر کر دیتا ہے۔ یہی بات قاضی صاحب کو بعد السلام علیکم میری طرف سے کہہ دیں کہ آپ کے ساتھ بالاتفاق تشریف لے آویں ۔ آپ کی ملاقات کو دل چاہتا ہے۔ نہ زمانہ کا کچھ اعتبار نہ عمر کا کچھ بھروسہ۔ بہتر ہے کہ ضرور آجائیں اور قاضی صاحب کو ساتھ لے آویں مگر تین چار ہفتہ کے لئے وہاں کا کچھ بندو بست کر آئیں ۔ باقی عند التلاقی ۔ آپ کے خواب کا پرچہ میں نے رکھ لیا ہے ۔ انشاء اللہ القدیر شائع کروں گا ۔ ۴ راکتو بر ۱۸۹۲ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بحضور امامنا و حبيبنا نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عرضداشت آنکه کل قاضی محمد عالم صاحب کی جانب سے عاجز کے نام ایک خط آیا ہے۔ حضور کی خدمت میں ہزاراں ہزار تحیہ و سلام کے بعد عرض کرتا ہے کہ مجھ عاجز کو دعائے مخلصانہ سے بھلا نہ دیں ۔ حضرت جی یہ محمد عالم اس سلسلہ کا عجیب رنگ کا مخلص نکلا ہے ۔ شب و روز تبلیغ میں لگا رہتا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے محمد یوسف کا نعم البدل دیا ہے ۔ مخالفوں کی اولاد کو ایک ایک کر کے سمجھاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس کی زبان میں تاثیر بھی رکھی ہے اور حضور سے ایک عاشقانہ تعلق رکھتا ہے اور موقع خدمت بھی خوب نبھاتا ہے ۔ حضور اس کی ترقی محبت کے واسطے ضرور دعا کریں ۔ میری طرف الحاج سے دو دو صفحہ خط کے بھر دیتا ہے ۔ دوسری عرض یہ ہے کہ اگر فرماویں تذکرۃ الشہادتین بھی اس کو بھیجا جاوے۔ والسلام