مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 439
وطن سے دُور اور اپنے عزیز سے ہمیشہ کے لئے جدا ہمارے مکرم دوست السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ خدا آپ کے ساتھ ہو اور آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔عزیز کی وفات کی خبر آپ کو پہنچ چکی ہوگی۔ایسے وقت میںکن الفاظ کے ساتھ میں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں جن سے آپ کے دل میں طمانیت ہو لیکن حضور اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور میں جب یہ جانکاہ خبر پہنچی ہے تو حضور نے مجھے حکم دیا ہے کہ ان کی طرف سے میں آپ کو خط لکھوں جس سے آپ کے دل کو اطمینان اور آرام حاصل ہو۔ایسے جوان خوبصورت ہونہار فرزند کی جدائی ایک بہت بڑا صدمہ ہے اور اس کا برداشت کرلینا ہر ایک شخص کا کام نہیں لیکن ایک تازہ واقعہ اسی قسم کا یہاں بھی ہو چکا ہے اور وہ آپ کے امام اور امیر کے گھر میں ہو اہے۔میں دیکھتا تھا کہ حضرت اقدس ؑ کو میاں مبارک احمد کے ساتھ جس قدر محبت تھی آپ کو خود معلوم ہو گا اور اس کی وفات ایک سخت صدمہ تھا لیکن حضرت نے کیا خود بیوی صاحبہ نے اس صبر کے ساتھ اس صدمہ کو برداشت کیا۔فرمایا جب خدا کی اس میں رضا ہے تو میں خدا کو راضی رکھنا چاہتی ہوں خواہ ہزار مبارک احمد وہ لے لے۔سو میرے پیارے آپ کا عزیز آپ کو بہت عزیز تھا۔پر خدا نے اس کو لیا اور آپ کی پیاری چیز اس نے لے لی۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۱؎۔جب تک کہ تم اپنی پیاری چیزیں خدا کی راہ میں دے نہ دو۔تم بھلائی کو پا نہیں سکتے۔خدا بڑا قادر اور حکیم ہے۔اس نے آپ پر ایک ابتلاء وارد کیا ہے اور اس کا فضل خالی از حکمت نہیں اور ابتلاء ایک بڑے انعام کو اپنے ساتھ لاتا ہے۔ابتلا ء گذشتہ گناہوں کو بخشواتا ہے اور آئندہ کے واسطے نعمتوں کا دروازہ کھولتا ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام کے درجنوں بیٹے ہلاک ہوئے پر اس نے صبر کے ساتھ سب کچھ پایا اور پہلے سے بھی بڑھ کر پایا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک بڑا موقعہ دیا ہے کہآپ اس کی رضا کو حاصل کر لیں۔کیونکہ دنیا میں سب سے بھاری شے جو آپ کی تھی وہ اس نے لے لی اور آپ سے مانگے بغیر لے لی۔کیونکہ وہ مالک ہے پس آپ اپنے ۱؎ ٰال عمران : ۹۳