مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 408

تھی۔آپ سلسلہ عالیہ کے مفتی تھے۔قاضی بھی رہے تھے۔مکرم مولاناجلال الدین صاحب شمس و مولانا ابوالعطاء صاحب اور دوسرے نوجوان مبلغین آپ کی تعلیم و تربیت کے رہینِ منت تھے۔آپ نہ صرف خود عالم و مبلغ تھے۔بلکہ عالم و مبلغ گر بھی تھے۔وفات کے وقت آپ جامعہ احمدیہ کے پروفیسر تھے۔ذہین حافظ اور قادر الکلام تھے۔آپ وقت کے بڑے پابند تھے۔باقاعدہ گھڑی رکھتے اور ہر کام کے موقعہ پر گھڑی دیکھتے۔آپ نے مورخہ ۲۳؍جون ۱۹۲۹ء کو ۴۸ سال کی عمر میں وفات پائی۔٭ آپ کے بھائی مرحوم رحمت علی احمدی انواروبرکات کے وارث تھے چنانچہ امام پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ جو کہ آپ نے یکم فروری ۱۹۰۴ء کی سیر اور قبل ازعشاء مجلس میں فرمائے۔’’وہ واقعی قابل تعریف آدمی تھے اور ایک نمونہ تھے۔اخلاص اور محبت سے پرُ تھے۔تقویٰ بھی ان میں تھا اور نور سے ان کا منہ چمکتا تھا۔حقیقت میں ایک آدمی ایسا فوت ہوا ہے کہ بظاہر اس جیسا پیدا ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ایسے اخلاق اور محبت والے جماعت میں کم ہیں۔خدا تعالیٰ قادر ہے۔اس کی جناب میں کمی نہیں وہ اور کسی طور سے اس نقصان کو پورا کر دے گا۔صحابہ کرام کس قدر شہید ہوتے تھے مگر تاہم کمی نہ ہوتی تھی اسلام دن بدن پھیلتا ہی گیا۔فرمایا۱۵ یا ۲۰ دن یا شاید ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے مجھے الہام ہوا تھا۔ایک وارث احمدی فوت ہو گیا۔‘‘ پھر جیسا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے بھائی حافظ روشن علی صاحب نے ایک عریضہ برائے طلب رخصت حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اس کا یہ جواب تحریر فرمایا۔جس سے عزیز رحمت علی مرحوم کے اعمال حسنہ کی عنداللہ قدر کا اندازہ لگ سکتا ہے۔٭٭ ٭ تلخیص از الفضل نمبر۱۰۰ جلد۱۶ مورخہ ۲۸؍جون ۱۹۲۹ء صفحہ ۷،۸ ٭٭ البدر نمبر۶ جلد۳ مورخہ ۸؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۲،۳