مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 251

مکتوبات احمد ۲۵۱ جلد چهارم مکتوب نمبر ۱۱۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین قادیان بر رخصت یکسال السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں لاہور میں اگر سخت مجبوری میں پیش گیا ہوں ۔ ارادہ صرف یہ تھا کہ میم ڈاکٹر سے دوا ، دوائیں دریافت کر کے قادیان میں جلد واپس آ جائیں گے مگر وہ میم ڈاکٹر کہتی ہیں کہ اگر ایک ماہ لاہور میں رہ کر علاج نہ کرایا تو حالت خطرناک ہو جائے گی اور جان کا خطرہ ہے ۔ اس صورت میں سخت مجبوری کے ساتھ ایسی جگہ ٹھہر نا پڑا ۔ امید کہ آپ مکان کی حفاظت کا پورا پورا بند و بست رکھیں گے ۔ کل اسباب قادیان میں ہیں اور دشمن بہت ہیں ۔ آپ پورے طور پر نگرانی رکھیں اور بیت الدعا کا وہ حجرہ جہاں اسباب ہیں ۔ ایک طرف اس کے چوبارہ ہے اور دوسری طرف وہ دالان ہے جو مسجد سے ملحق ہے دونوں طرف کی حفاظت چاہئے ۔ بابوشاہ دین صاحب بڑے مخلص آدمی ہیں ۔ ان کی نسبت جو کچھ آپ نے لکھا ہے وہ خط پڑھ کر بہت افسوس ہوا ۔ اگر ایسے وقت میں قائمی قوت کے لئے تھوڑی تھوڑی دی جائے تو کیا مضائقہ ہے یہ دوا قادیان میں مل سکتی ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ اسی کے ذریعہ سے فضل کرے۔ آپ ضرور ہر روز تکلیف اٹھا کر محض للہ ایک دفعہ ان کو دیکھ لیا کریں۔ اور میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ مرض کو کیسی خطرناک ہو مگر تا ہم اگر خدا تعالیٰ چاہے تو نومیدی میں سچی امید پیدا کر سکتا ہے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے یہ تو معلوم ہے کہ حالت نازک ہے مگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر پورے غور کے ساتھ تدبیر کرتے رہیں ۔ آپ کو ثواب ہوگا اور نیز میری خوشنودی کا باعث ہوگا ۔ ۱۰ رمتی ۱۹۰۸ء والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ