مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 248
مکتوب نمبر۱۱۳ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی محبیّ عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مبلغ انتیس روپے پہنچے۔حسب تحریر تقسیم کی گئی جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔طبیعت کا یہ حال ہے کہ میں نے حسب تحریر آپ کے عرق کافور ترک کردیا تھا اور بجائے اس کے کوکووائن استعمال کرنا شروع کیا اور سکاٹش ایملشن مگر میں سمجھ نہیں سکتا۔تعجب کی جگہ ہے کہ ابھی ایک دن بھی اس تبدیلی پر نہیں گزرا تھا۔قریباً نصف رات کے بعد یا کچھ پہلے سونے کی حالت میں مجھ کو سخت بے قراری نہایت درجہ کی حرارت معلوم ہوئی اور دل چاہا ہے کہ تمام کپڑے اُتار کر باہر نکل جائوں۔کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس قدر گھبراہٹ اور گرمی کیوں ہے اور لوگ لحاف میں لیٹے ہوئے سردی کی شکایت کرتے ہیں مگر مجھے گرمی محسوس ہوتی تھی نبض میں بھی تیزی آگئی ایسی گرمی کہ جس کا اثر خطرناک محسوس ہوتا تھا۔آخر میرے دل میں گذرا کہ وہی عرق کافور پی کر دیکھوں تب میں نے اندازہ سے بھی زیادہ پی اور کچھ عرق کھجور پیا تب طبیعت بحال ہوگئی اس وقت سے بحال ہے۔ابھی تک کچھ کم درجہ کی غیر طبع حرارت کے استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔درحقیقت طبائع کا بھی کچھ ٹھکانہ نہیں۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔باقی ہر طرح سے خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ