مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 224
شریک ہوں۔امید کہ ایک ہفتہ کی رخصت کے لئے کوشش کریں گے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تعجب نہیں کہ مل جائے مگر شاید ہفتہ کافی نہ ہو دس دن ضروری ہوں مگر کوشش کرنی چاہئے۔۲۲؍ مارچ ۱۹۰۰ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد نوٹ:۔اس خط کے ملحقہ صفحہ پر ڈاکٹر صاحب مرحوم کی اپنی تحریر ہے۔کہ دریائے گونتی کے کنارے جنگل میں بچے اکیلے چھوڑ کر خدا تعالیٰ نے قادیان میں آنے کی توفیق عطا فرمائی۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ۔خاکسار خلیفہ رشید الدین مکتوب نمبر۷۴ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی محبیّ عزیزی اخویم… ڈاکٹر صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت مبلغ پچیس روپیہ کا منی آرڈر مرسلہ آں محب پہنچا۔حسب منشا خط تقسیم کیا گیا جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔طاعون قادیان سے ۳ میل کے فاصلہ پر آگیا ہے۔کتوّں کی طرح لوگ مرتے ہیں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ