مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 215
مکتوب نمبر۶۲ژ محبیّ اخویم ڈاکٹر صاحب سلّمہ یہ مرا لڑکا شریف بہت دُبلا پتلا ہوتا جاتا ہے کوّ ا کے دونوں طرف کی گلٹیاں پھولی ہوئی ہیں کھول کرمونہہ دیکھ لیں اور میں نے آج سکاٹش ایملشن لاغری کے لئے اس کو کھلائی ہے۔والسلام غلام احمد مکتوب نمبر۶۳ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی محبیّ عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مقدمہ آخر ۲۴؍ فروری ۱۸۹۹ء کوفیصلہ ہوگیا۔مجھ کو بری کیا لیکن فریقین کے لئے مجھ سے اور محمد حسین سے اس مضمون کے نوٹس لئے کہ کوئی فریق دوسرے فریق کی نسبت موت کی پیشگوئی نہ کرے۔کوئی فریق دوسرے فریق کو کافر ، دجال، کذّاب نہ لکھے۔قادیان کو چھوٹی کاف سے نہ لکھے۔مجھ کو ہدایت ہوئی کہ اگر آپ چاہیں تو محمد حسین پر نالش کرکے اس کو سزا دلائیں کہ اس نے سخت الفاظ استعمال کئے اور محمد حسین کو بری نہیں کیا صرف نوٹس لے کر چھوڑ دیا اور مجھ کو بری کیا اور مثل داخل دفتر کی۔دیگر خیریت ہے۔۲۸؍ فروری ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ