مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 195
مکتوب نمبر۳۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی محبیّ عزیزی رشید الدین صاحب سلمہ ُ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا کارڈ پہنچا۔آپ کے بزرگوار والد صاحب کے واقعہ وفات سے اس عاجز کو بہت افسوس ہے۔ ۱؎۔اللّٰہ جلّ شَانُہٗ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اپنی رحمت اور فضل کے سایہ میں ہمیشہ رکھے اٰمین۔عزیزمن! کسی انسان کے والدین ہمیشہ ساتھ نہیں رہ سکتے۔یہی سنت اللہ ہے۔والد کی وفات کا صدمہ بہت بڑا ہوتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا آپ متولی ہوجاتا ہے۔مجھ کو یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب فوت ہونے کو تھے تو مجھ کو بھی بہت غم ہوا تھا۔اور خود خدا تعالیٰ نے مجھ کو ان کی وفات کی خبر سنائی تھی۔اور جب میں نے خبر پاکر غم کیا تو یہ الہام ہؤا تھا۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۲؎۔سو خدا تعالیٰ نے آپ کو ہر ایک طرح کی رشد اور نیک بختی بخشی ہے۔خدا تعالیٰ آپ کو ہرگز کوئی غم نہیں دے گا۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کو خدا تعالیٰ آپ کے بھائیوں سے زیادہ موردِ رحم اور فضل کرے گا۔باپ کے فوت ہونے سے ایک نیا عالم شروع ہوتا ہے اور دنیا بدلتی ہے۔پس خدا تعالیٰ یہ تبدیلی آپ کے لئے اپنے فضل اور رحمت کے سہارے سے کرے۔اٰمین ثم اٰمین۔٭ ۴؍ مئی ۱۸۹۶ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۱؎ البقرۃ : ۱۵۷۔۲؎ الزمر : ۳۷ ٭ الفضل نمبر۱۷۹ جلد ۳۴ مورخہ یکم اگست ۴۶ء صفحہ ۳