مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 184
مکتوبات احمد ۱۸۴ جلد چهارم ایک اور تکلیف دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ قادیان میں آپ نے کو نین کی گولیاں بنادی تھیں اور وہ سخت اور مضبوط گولیاں تھیں ۔ بآسانی ثابت ہی حلق کے نیچے اتر جاتی تھیں ۔ اب وہ گولیاں ختم ہو چکی ہیں ۔ اور نرم گولی سے تلخی حلق میں پھیل جاتی ہے اور کوئی ایسی سخت گولیاں نہیں بنا سکتا۔ اس لئے مکلف ہوں کہ ایک عہر روپیہ کی کونین کی گولیاں مگر تین درجہ کی ایک میرے کھانے کے لائق اور ایک محمود کے کھانے کے لائق اور ایک بہت چھوٹی ہوں جن کو ایک بچہ چھ سات ماہ کا کھا سکتا ہو۔ کیونکہ بشیر کو بھی بخار آتا ہے۔ اگر گولیاں آئیں تو ایک ایک گولی اس کو بھی دے دیا کروں گا ۔ فقط اور ہمیشہ اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں۔ باقی خیریت ہے۔ ۲۲ دسمبر ۱۸۹۳ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان یہ یادر ہے کہ گولیاں سخت ہوں اور تین درجہ کی ہوں ۔ مکتوب نمبر ۱۲ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ احمد محبتی مخلصی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید احمد صاحب سلمۂ تعالی کل کی ڈاک میں گولیاں کو نین کی پہنچی ۔ خدا تعالیٰ آپ کو جزائے خیر بخشے ۔ گولیاں نہایت عمدہ ہیں اور نہایت محبت اور اخلاص سے بنائی گئی ہیں ۔ امید کہ ہمیشہ اپنی خیر و عافیت سے مطمئن فرماتے رہیں ۔ زیادہ اتے رہیں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۳۱ دسمبر ۱۸۹۳ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور الحکم جلد ۴۲ نمبر ۱۵ تا ۱۸ مورخه ۲۸ رمئی وے رجون ۱۹۳۹ء صفحه ۲۴ لے پورا نام رشید الدین ہے ( ناشر )