مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 164

غیرمبائعین میں شامل ہو گئے۔آپ کی وفات ۱۰؍مارچ ۱۹۲۴ء کو ہوئی۔مگر کبھی بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی مخالفت نہ کی۔٭ ---------- مکرم معظم جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے نام مفتی صاحب شیخ صاحب کو پہنچا دیں۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کے خط کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔مکتوب میں اس ابتلا میں ان کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔درحقیقت ابتلا بڑی رحمت کا موجب ہوتے ہیں کہ ایک طرف عبودیت مضطر ہو کر اور چاروں طرف سے کٹ کر اسی اکیلے سبب ساز کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور اُدھر سے اُلوہیت اپنے فضلوں کے لشکرلے کر اس کی تسلی کے لئے قدم بڑھاتی ہے۔میں ہمیشہ یہ سنت ِ انبیا علیہ السلام اور سنت اللہ میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر اس گرامی جماعت کی رافت و رحمت ابتلا کے وقت اپنے خدام کی نسبت جوش مارتی ہے آرام و عافیت کے وقت وہ حالت نہیں ہوتی۔٭٭ قادیان ۸؍ستمبر ۱۹۰۰ء عاجز ۱۲ بجے دن عبد الکریم ٭ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا صفحہ ۱۲۴، ۱۲۵ ٭ ٭ الحکم نمبر ۳۵ جلد ۱۰ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۰