مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 163
حضرت شیخ رحمت اللہ صاحبؓ جناب شیخ رحمت اللہ صاحب ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ نے ۲۹؍مئی ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کا نام ۲۲۹ نمبر پر ہے۔ستمبر ۱۸۹۱ء کو حضرت مسیح موعود ؑ نے دہلی کا سفر اختیار فرمایا تو اس میں جناب شیخ رحمت اللہ صاحب حضور ؑ کے ساتھ تھے۔حضرت اقدس ؑ نے ’’ازالہ اوہام‘‘ میں آ پ کے متعلق لکھا۔’’حبیّ فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی، شیخ رحمت اللہ جوان صالح، یک رنگ آدمی ہے۔ان میں فطرتی طور پر مادہ اطاعت اور اخلاص اور حسن ظن اس قدر ہے۔جس کی برکت سے وہ بہت سی ترقیات اس راہ میں کر سکتے ہیں۔ان کے مزاج میں غربت اور ادب بھی از حد ہے اور ان کے بشرہ سے علامات سعادت ظاہر ہیں۔حتیّٰ الوسع وہ خدمات میں لگے رہتے ہیں…۔‘‘ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۵۳۷) ’’آسمانی فیصلہ‘‘ اور ’’آئینہ کمالا ت اسلام‘‘ میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء و ۱۸۹۲ء ’’تحفہ قیصریہ ‘‘میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں’’ آریہ دھرم‘‘ ’’ سراج منیر‘‘ میں پرُامن جماعت کے ضمن میں نام درج ہے۔ملفوظات کی تمام جلدوں میں مختلف رنگ میں ذکر ہے۔’’ضمیمہ انجام آتھم ‘‘میں خصوصی معاونت کرنے والوں میں آپ کا نام شامل ہے۔لاہور انگلش وئیرہائوس کے نام سے آپ کا کپڑے کا بڑا کاروبار تھا۔آپ حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں گرم کپڑے تیار کر کے بڑے اخلاص سے پیش کیا کرتے تھے۔آپ کے بھائی شیخ عبد الرحمن صاحب ؓ اور بھتیجے عبد الرزاق صاحب بیرسٹرؓ نے بھی حضرت اقدس ؑ کی بیعت کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ کی وفات کے بعد نظامِ خلافت سے وابستہ نہ رہے