مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 159

مکتوب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبیّ اخویم سید خصیلت علی شاہ صاحب سلّمہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ چند روز ہوئے کہ پونچاتھا مجھ کو معلوم نہیں کہ میں نے جواب لکھ دیا تھا یا نہیں۔غالباً یہی خیال آتا ہے کہ جواب لکھ دیا گیا تھا۔اب باعث تکلیف دہی یہ ہے کہ میں نے بعض آپ کے سچے دوستوں کی زبانی جو درحقیقت آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں سنا ہے کہ امور معاشرت میں جو بیویوں اور اہل خانہ سے کرنی چاہیے کسی قدر آپ شدت رکھتے ہیں یعنے غیظ و غضب کے استعمال میں بعض اوقات اعتدال کا اندازہ ملحوظ نہیں رہتا۔میں نے اس شکایت کو تعجب کی نظر سے نہیں دیکھا۔کیونکہ اوّل تو بیان کرنے والے آپ کی تمام صفات حمیدہ کے قائل اور دلی محبت آپ سے رکھتے ہیں۔اور دوسری چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قسام ازلی نے دے رکھی ہے اور ذرہ ذرہ سی باتوں میں تادیب کی نیت سے یا غیرت کے تقاضا سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت حلم اور برداشت کی تاکید کی ہے۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہآپ جیسے رشید اور سعید کو اس تاکید سے کسی قدر اطلاع کروں۔اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۱؎ یعنے اپنی بیویوں سے تم ایسے معاشرت کرو۔جس میں کوئی امر خلاف اخلاق معروفہ کے نہ ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو۔بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ فرماتے ہیں۔خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ بِاَھْلِہٖ۔یعنی تم میں سے بہتر وہ انسان ہے جو بیوی سے نیکی سے پیش آوے اور حسن معاشرت کے لئے اس قدر تاکید ہے کہ میں اس خط میں لکھ نہیں سکتا۔عزیز من! انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے ۱؎ النسآء : ۲۰