مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 152

مجھے معلوم ہے کہ کئی ہزار ان کے مرید تھے اور بہت سے مولوی ان کے سلسلۂ بیعت میں داخل اور اس قدر اخلاق مندوہ مولوی تھے کہ مزدوروں کی طرح کسی عمارت کے وقت مٹی کی ٹوکریاں اپنے سرپر اٹھاتے تھے۔اور نہایت خسیسہ خدمت کے کام کرتے تھے لیکن باوجود اس کے جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کا وہ تمام مجمع اس سچی روشنی سے خالی و بے بہرہ تھا جس کو حقیقت اسلام کہہ سکتے ہیں۔اگر وہ شاہ صاحب پوری راستبازی کے ساتھ اصلاح خلق اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تو یہ سب مولوی جو خدمتگاروں کی طرح ان کے آگے حاضر رہتے تھے کافر کافر کہہ کر بھاگ جاتے غرض مولویوں کا مجمع کسی کے گرد رہنا اس کے حقانی ہونے کی نشانی نہیں ہے بلکہ حقانی آدمی ضرور اپنے زمانے لوگوں سے دکھ اٹھاتا ہے اگرچہ حقانی آدمی اپنے اندر تاثیرات قدسیہ رکھتا ہے۔لیکن ان تاثیرات سے وہی لوگ متاثر اور فیض یاب ہوتے ہیں جو صدق اور وفا سے سچائی کی راہ ڈھونڈتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا قدیم سے یہی قانون قدرت ہے کہ اس کو ڈھونڈنے والے ہی پاتے ہیں۔مثلاً ایک شہر کے قریب ایک چشمہ شیریں اور نہایت صافی اور خوشگوار موجود ہے اور بہت سے پیاسے اس چشمہ سے دور رہ کر ہر وقت اس چشمہ کو کوستے اور گالیاں دیتے ہیں کہ یہ چشمہ کیوں ہمارے منہ تک نہیں آجاتا اور ہماری پیاس نہیں بجھاتا۔تو یہ گالیاں ان کی سراسر نادانی اور کوتاہ فہمی کے راہ سے ہیں اگرو ہ اس چشمہ کے سچے طالب ہوتے تو افتاں و خیزاں اس چشمہ تک آ پہنچتے اور منہ اس کے کنارے پر رکھتے تب بلاشبہ سیراب ہو جاتے۔مگر اب اس چشمہ کا کیا گناہ اور کیا قصور ہے ایک شخص اس کے نزدیک نہیں اور اپنے منہ کو اس کے آب شفاف تک نہیں پہنچاتا اور دور بیٹھے اس کی شکایت کرتا ہے۔سو جاننا چاہیے کہ یہی مثال چشمہ حقانی آدمیوں کے متعلق ہے۔ایک شخص جو اپنے ایک باخدا مرشد کی منشاء کے موافق اس کے سلسلہ ارادت میں داخل نہیں ہوتا اور پوری پوری اس کی محبت اور وفاداری اپنے اندر نہیں رکھتا اور اس کے ہدایتوں کے موافق پورے جوش سے عمل نہیں کرتا اور اس کی دولت صحبت کو جیفۂ دنیا پر مقدم قرار نہیں دیتا اور پھر وہ اپنے اس شیخ کی شکایت کرتا ہے کہ اس کے انوار فیض سے میں مستفیض نہیں ہوا اور اپنی اس محرومی کو اسبات کی دلیل ٹھہراتا ہے کہ اس کا شیخ