مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 151

مدت تک قید رہے۔ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ سچے اور راستباز لوگ اپنے وقت کے مولویوں سے دکھ اٹھاتے رہے ہیں۔غور کر کے دیکھنا چاہئے کہ سید عبد القادر صاحب کی آج کل کیسی عظمت لوگوں کے دلوں میں ہے لیکن اس زمانے میں جب مولویوں نے انہیں کافر ٹھہرایا تو برابر دوسو برس تک کسی نے ان کا نام نہیں لیا۔الاماشا ء اللّٰہ۔پھر بعد اس کے عبد اللہ یافعی پیدا ہوئے تو انہوں نے سن سنا کر ان کے حالات اور خوارق لکھے اور ایک یہ امر بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب کوئی ایسا زاہد وعا بد خلق اللہ کو اپنی طرف بلاتا ہے جس کو بجز خاموشی و گوشہ گزینی کے اورذکر الٰہی کے اور کوئی خدمت منجانب اللہ سپردنہیں ہوتی اس کی محبت جلدتر دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کے بارے میں لوگوں کو کوئی ابتلا پیش نہیں آتا۔لیکن جب کوئی ایسا مامور من اللہ ظاہر ہوتا ہے جس کا منصب اور فرض یہ ہو کہ وہ اصلاح خلق اللہ کرے اور علماء اور فقرا کی غلطیاں ان پر کھولے اور ایسے ایسے تصفیہ طلب امور کا فیصلہ کرے جن سے بڑے بڑے جھگڑے برپا ہو جائیں تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت یہ امر ضروری ہوتا ہے کہ علماء فضلاء اس کے دشمن جانی بن جائیں۔مثلاً دیکھنا چاہیے کہ جس قدر یہودیوں اور عیسائیوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ذاتی عداوت و عناد ہے۔وہ سکھوں کے بابا نانک سے ہرگز نہیں اس کی کیا وجہ ہے یہی تو ہے کہ بابانانک خواہ کیسا ہی ہے ……… مگر اس کو یہود و نصاریٰ کی غلطیوں کی اصلاح سے کچھ تعلق و واسطہ نہ تھا اور بجز خاموشی و گوشہ گزینی کے اور کوئی اس کا کام نہ تھا۔مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس کام کے لئے آئے کہ تا اصلاح خلق اللہ کریں اور جو جو غلطیاں لوگوں نے اپنے راہوں میں ڈال رکھی ہیں۔ان کو ان سے متنبہ کریں سو بلاشبہ یہ طریق ایسا ہی ہے جس سے نفسانی آدمی ایسے مصلح کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور تاریکی سے پیار کرنے والے ہرگز نہیں چاہتے کہ نور کی اشاعت ہو۔غرض اس وجہ سے جو لوگ اصلاح خلق اللہ کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں پہلے دشمن ان کے ہر ایک گروہ کے مولوی اور فقیہ ہی ہوتے ہیں ورنہ گوشہ گزین زاہدوں عابدوں سے خواہ وہ ربانی ہوں یا صرف مزوّر ہوں مولویوں کو کچھ غرض و واسطہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی طرف رجوع کر لیتے ہیں۔ہمارے دیکھنے کی بات ہے کہ ہمارے اس ضلع میں ایک موضع رترچہترنام یا مکان شریف کے اسم سے موسوم ہے اس میں ایک صاحب امام علی شاہ نام رہا کرتے تھے