مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 150

مکتوبات احمد ۱۵۰ جلد چهارم آنحضرت کی جدی خون کی شراکت تھی لیکن پھر باوجود بے حد تبلیغ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کو نور رسالت سے ایک ذرہ بھی روشنی نہ پہنچی بلکہ ان پر یہ حکم آیت کریمہ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ۔ اور بھی حجاب پر حجاب پڑ گئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے نہ ہوتے تو یہ یقینی امر ہے کہ ابو جہل وغیرہ کفرہ فجرہ اس انتہائی درجہ کی شرارت تک ترقی نہ کرتے جو ترقی کر گئے کہ واصلان الہی جب ظہور فرماتے ہیں تو ایک ذرہ توجہ کر کے یا ایک تھوڑی سی پھونک مار کر تار یک فطرت کے آدمی کو خاک سے افلاک تک پہنچا دیتے ہیں ۔ سراسر ایک غلط خیال اور فاش غلطی ہے جب کہ حق بات یہ ہے کہ جو ازل سے بلائے گئے ہیں وہی دعوت حق قبول کرتے اور وہی فیض سماوی سے مستفیض ہوتے ہیں ۔ حسن ز بصره بلال از حبش صهیب زروم زخاک مکہ ابو جہل ایں چہ بوالعجبی ست اور یہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ سید احمد صاحب کی تاثیرات باطنی عام طور پر لوگوں کے دلوں پر اثر کر گئے ہیں اور بڑے بڑے مشاہیر علماء ان کے حلقہ اطاعت میں آگئے تھے ۔ یہ تقریر از قبیل خطابیات ہے جس کے اثبات کے لئے کوئی سند صحیح یا حجت قطعی کسی کے ہاتھ میں نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب بعض اکابر و مشائخ دنیا سے گزر جاتے ہیں تو پیچھے سے ان کے سوانح اور لائف لکھنے والے بہت سے حواشی اپنی طرف سے ملا کر اور ان کے حالات کو ایک اعجوبہ کی طرح بنا کر لکھتے ہیں ۔ تا وہ تصویر جو اپنے خیالات کے دخل سے وہ لوگ کھینچتے ہیں۔ لوگوں کو دلکش معلوم ہو۔ ورنہ صاف ظاہر ہے کہ وقت کے مولوی اور فقیہ کبھی کسی نبی اور رسول پر بھی ایمان نہیں لائے ۔ حضرت مسیح پر بھی ایمان نہیں لائے ۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان نہیں لائے ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کے ہاتھ سے بہت تکلیفیں اٹھائیں ۔ سید عبد القادر گیلانی رضی اللہ عنہ پر سولہ سو مولویوں نے کفر کا فتویٰ لکھا اور امام غزالی صاحب کے زمانہ میں مولویوں نے انہیں کا فر ٹھہرایا ۔ سید الطائفہ حضرت بایزید بسطامی صاحب ستر دفعہ کا فر ٹھہرا کر بسطام سے نکالے گئے ۔ مجدد الف ثانی صاحب پر مولوی عبدالحق صاحب دہلوی نے کفر کا فتویٰ لکھا اور ہندوستان کے تمام مشاہیر علماء کے اس پر مہریں لگوائیں اور اس پر بھی بس نہ کی بلکہ شاہ وقت کو افروختہ کر کے گرفتار کرایا اور زدوکوب ہوئے اور گوالیار کے قلعے میں ایک البقرة : اا