مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 133
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو جو محبت اپنے مخلص احباب سے ہے اور کس طرح سے آپ بدل اس امر کو چاہتے ہیں کہ احمدی احباب آپ کی صحبت بابرکت میں رہ کر فیضان الٰہی کے چشموں سے اپنے دلوں کی زمین کو سیراب کریں وہ آپ کو ذیل کے خط سے ظاہر ہو سکتا ہے۔جو کہ حضرت امام الزمان ؑ نے سید تفضل حسین صاحب پنشنر رئیس اٹاوہ کے نام ان کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا۔جبکہ سید صاحب قادیان میں ہی مقیم تھے اور جانے کے لئے رخصت طلب کی تھی۔مکتوب محبی اخویم مولوی سید تفضل حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا یہ عنایت نامہ بہت ناگوار گزرا۔مجھے پہلے ہی امید تھی کہ آپ جلد رخصت لیویں گے۔یہ واقعی بات ہے کہ میں نہیں جانتا کہ پھر ملاقات ہو یا نہ ہو۔کسی نے سچ کہا ہے۔غنیمت جان رل مل بیٹھنے کو جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے۔لیکن آپ کے اس عذر کے سامنے کہ چند امور ضروری درپیش آ گئے ہیں کیا کہہ سکتا ہوں… خدا تعالیٰ آپ کا حافظ ہو۔دنیا ایک بے وفا اور سرائے فانی ہے۔آخرت کی طرف ہمیشہ متوجہ رہیں۔اور پھر نیت رکھیں کہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو پھر ملاقات کریں۔٭ ۴؍مارچ ۱۹۰۴ء خاکسار مرزا غلام احمد ٭ بدر نمبر۱۵ جلد ۲ مورخہ۱۶؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۷