مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 518
مکتوبات احمد ۳۷۸ مکتوب نمبرا جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محبی عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا وہ تارجس کا چند روز سے ہر وقت اندیشہ تھا آخر کل عصر کے بعد پہنچا۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - عزیزی مرزا ایوب بیگ جیسا سعید لڑ کا جو سراسر نیک بختی اور محبت و اخلاص سے پر تھا۔ اس کی جدائی سے بھی بہت صدمہ اور دکھ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اور اس کے سب عزیزوں کو صبر عطا کرے اور اس مصیبت کا اجر بخشے ۔ ( آمین ثم آمین ) اس مرحوم کے والد ضعیف کمزور کا کیا حال ہوگا اور اس کی بیوہ عاجزہ پر کیا گزرا ہوگا ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ سب کو اس صدمہ کے بعد صبر عطا فرمائے ۔ ایک جوان صالح نیک بخت جو اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا اور ایک پودہ نشو و نما یافتہ جواب امید کے وقت پر پہنچ گیا تھا یک دفعہ اس کا کاٹا جانا اور دنیا سے نا پدید ہو جا نا سخت صدمہ ہے ۔ اللہ جل شانہ سوختہ دلوں پر رحم کی بارش کرے ۔ اسی خط کے وقت جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف میری توجہ تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے نا پدید ہو گیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا کہ یکد فعہ الہام ہوا ۔ مبارک وہ آدمی جو اس در جو اس دروازہ کے راہ سے داخل ہوکے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو۔ ایک دفعہ عزیز مرحوم کی زندگی میں بکثرت اس کی شفا کے لئے دعا کی ۔ تب خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ہے گویا وہ چاند کے ٹکڑے اکٹھے کر کے بنائی گئی ہے اور ایک شخص ایوب بیگ کو اس سڑک پر لے جا رہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اور نہایت خوش اور چمکیلی سڑک ہے ۔ گو یا زمین پر چاند بچھایا گیا ہے۔ میں نے یہ خواب ! یہ خواب اپنی جماعت میں بیان کی اور تکلف کے طور پر یہ سمجھا کہ یہ صحت کی طرف ا تذکره صفحه ۲۹۲ مطبوعه ۰۰۴ ۲۰۰۴ء