مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 512

مکتوبات احمد ۳۷۲ جلد سوم وہ سارا ہی اس کا ہو گیا تھا اس لئے اس رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ نے اس کو اپنے ہی پاس بلالیا اور یہ سب فضل اور برکت اور حسن خاتمت اس امام مسیح موعود کے انفاس طیبات اور محبت اور دعا کا نتیجہ تھا۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک فرد اس مسیح موعود کا ایسا ہی سچا خادم اور جاں نثار ثابت ہو جیسا کہ ہمارا بھائی مغفور و مرحوم ایوب تھا۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایسا ہی اچھا خا تمہ ہو جیسا کہ اس عزیز کا ہوا۔(آمین) اس عزیز نوجوان کی صلاحیت اور تقوی کی وجہ سے حضرت اقدس کو بھی اس سے غایت درجہ کی محبت اور پیار تھا جو کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے دوگرامی ناموں سے ظاہر ہوگا جو ذیل میں درج ہیں۔اوّل وہ خط ہے جس کا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں۔وہ آں عزیز کے دام واپسیس پر ملا اور دوسرا اس مخبر صادق کی طرف سے تعزیت نامہ ہے۔مجھے اپنے منصبی فرائض اتنے ہیں کہ فرصت نہیں رکھتا کہ میں سب احباب کی طرف اس عزیز کی وفات کے متعلق حالات لکھ سکوں۔اس لئے میں نے مختصر طور پر عریضہ آپ صاحبان کی طرف لکھا ہے تا کہ جہاں جہاں کہ آپ ہوں اس واقعہ ناگزیری کی خبر ہو اور آپ سب صاحبان اس مرحوم و مغفور کے لئے اگلے جہاں میں ترقی مدارج و مغفرت کی دعا کریں۔وہ عزیز اس تمام جماعت کا پیارا تھا اور ہر ایک کی محبت اس کے دل میں تھی۔اس مرحوم متقی نوجوان کا آپ سب صاحبان کو آخری سلام پہنچے۔اس عزیز نے عمر تو تھوڑی پائی مگر اس کی صلاحیت اور تقوی کا قصہ لمبا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کو ایک کتاب کی صورت میں پیش کروں۔شاید ہے کہ اس نو جوان کی پاک مثال سے کوئی دل مؤثر ہو جاوے اور اس نور کے چشمہ کی طرف ہمہ تن رجوع کرے۔جو اس آخری زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کوثر سے نکالا ہے۔تا کہ اس کا ایک گھونٹ اندر کے خفیہ درخفیہ معاصی کی آگ بجھانے کا کام دے اور ایمان کا پودا اس سے نشو و نما پا جائے اور یہ اس کی نجات کا موجب ہو جائے۔اس کی زندگی اور موت تو نمونہ تھی ہی۔اس کی وفات کے بعد کے حالات بھی عجیب ہیں جو کہ کئی متقی اور صالح لوگوں نے کثرت سے اس کو اولیاء اللہ اور انبیاء کی مجلس میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت میں جنت کے نعماء کھاتے اور خوش وخرم پھر تے عالم رؤیا میں دیکھا ہے۔