مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 511
مکتوبات احمد ۳۷۱ جلد سوم کہ الْحَمْدُ لِلہ میں بہت اچھا ہوں۔اس بیماری کی حالت میں بھی اس نے کوئی نماز قضا نہ کی۔اور کامل الایمان میں طبیب ہوں۔میں نے ہزار ہا بیمار دیکھے ہیں۔بیماری سے اکثر انسان ہراساں ہو جاتا ہے ور متعلقین و تیمار داروں کو بیمار کو تسلی و تشفی دینی پڑتی ہے مگر میں نے اسے ایسا تسلی یا فتہ بیمار پایا کہ ہمیشہ اپنے لواحقین و متعلقین کو تسلی دیتا اور اس کی نازک حالت کو دیکھ کر اگر کوئی رشتہ داراپنی آنکھوں سے آنسو بہاتا تو وہ بڑے مضبوط دل اور واثق یقین سے اُس کو تسلی دیتا اور کہتا کہ خدا کے فضل سے مایوس نہ ہو۔میں تو اس کی رحمت سے نومید نہیں ہوں۔تم کیوں پریشان ہوتے ہو۔حضرت مسیح موعود سے عشق و محبت۔وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاص اور ایمان کا نمونہ تھا۔حضرت مسیح موعود کو جس سے اُس کو یہ دولت ملی تھی ، آخر وقت تک ہمیشہ یاد کرتا رہا۔اور اس کی اخیر ایام میں بڑی بھاری یہی آرزو تھی کہ حضرت مسیح موعود کی آخری قدم بوسی سے مشرف ہو اور مرنے کے وقت کلمہ شہادت کل لوازمات ایمان کا اپنی زبان سے اقرار کرنے کے بعد اس نے کہا کہ میرا حضرت مسیح موعود امام آخر الزماں پر ایمان ہے۔بس یہی اس کے آخری کلمات تھے۔اس کے بعد زبان بند ہو گئی۔اور حضرت مسیح موعود کا خط جن کا کہ وہ کامل درجہ عشق رکھتا تھا، اس کی عین نزع کی حالت میں پہنچا۔وہ خط اس وقت اس عزیز کو جو خدا تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بالکل تیار بیٹھا تھا سنایا گیا اور وہ اس پیارے امام کے مبارک ہاتھوں کی تحریر جس کو وہ چومنے اور آنکھوں سے لگانے کی نہایت آرزو رکھتا تھا۔اس کے منہ اور آنکھوں سے لگا کر اس کے سینے پر رکھ دی گئی۔اس کے بعد معا وہ پاک روح ہمارے پاس سے پرواز ہوگئی۔گویا کہ اس کو صرف اس خط کی انتظار تھی۔یہ ایک شخص تھا جو اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی زندگی انبیاء کے طریق پر تھی۔مروجہ علوم میں اس نے بی اے تک تعلیم پائی تھی مگر دین اور خدا شناسی میں وہ اس چھپیں سالہ عمر میں اس مرتبہ کو پہنچ گیا تھا کروڑہا مخلوقات کو وہ معرفت پیری میں بھی نصیب نہیں ہوتی اور اس جہان میں ہی اس کا تعلق اُس جہان سے نزدیک تر ہو گیا تھا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے ایسا پُر تھا کہ