مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 510
مکتوبات احمد ۳۷۰ جلد سوم تاریکی سے نفرت۔اور دل جو ابھی کسی قسم کے اثرات سے متاثر نہ ہوئے تھے اس نیک صحبت سے فیض یاب ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کہ افضل البشر اور خیر الرسل ہے اور ہر ایک خیر وخوبی کی جڑھ ہے غایت درجہ کا اُنس ہو گیا اور خدا اور کتاب اللہ سے خاص لگاؤ اور محبت ہو گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے خدا تعالیٰ کے خوف وخشیت نے دل میں جگہ لی۔ہمارا جسمانی باپ تو ایک تھا ہی۔روحانی طور پر بھی ہم ایک باپ کے فرزند ہو گئے اور مامور کے اس یگانگت کے تعلق سے قلوب کو ایک دوسرے سے کچھ ایسا لگاؤ تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ ہم دونوں بھائی ایک دوسرے کے لئے ایک جان اور دو قالب تھے۔مرحوم کی وفات جب کہ میرے اور اس عزیز کے ایسے تعلقات تھے تو ایسے آرام قلب اور راحت جان شفیق کے گزرجانے سے ممکن تھا کہ عام دنیا داروں کی طرح میں بھی اندوہ غم وکرب میں مبتلا ہو کر فراق میں ہلاک ہو جا تا مگر تسلی دینے والی ایک ہی بات تھی کہ اس عزیز کا خاتمہ بخیر ہوا۔جو کہ اس امام زماں کے ایک خواب سے قریب چھ ماہ پیشتر معلوم ہو چکا تھا۔اسم بامسمیٰ ایوب۔یہ سعید نوجوان اپنے رشد اور نیک بختی اور طہارت میں اسلام کے اس برگزیدہ سلسلہ میں ایک نمونہ تھا اور جو صبر اور استقلال اس نے اپنی ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ کی بیماری میں دکھایا۔اس کی اس زمانہ میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔یعنی اس تمام عرصہ میں ایک لحظہ بھر کے لئے بھی اس کے ایمان اور استقلال کو جنبش نہیں آئی اور وہ اخیر وقت تک اس بیماری میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی پر شاکر تھا جیسے کہ کوئی دنیا دار کسی دنیاوی نعمت پانے پر خوشی اور انبساط سے شکر کا لفظ منہ پر لاتا ہے۔تمام بیماری میں اس اسم بامسٹی ایوب نے اُف تک نہ کی۔اور آخری سانس تک بیماری کے دکھ سے اس کی آنکھ میں آنسو نہ آیا۔اور ایسی سخت بیماری کے اس ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اس کی نیند کا بہت سا حصہ جاگنے میں گزر رہا تھا اور کئی کئی راتیں اس نے اپنی آنکھوں میں گزاری تھیں۔اس نے کبھی ناشکری نہیں کی اور نہ کبھی کوئی لفظ مایوسی کا منہ سے نکالا۔میں نے بارہا اس کو ساری ساری رات کھانستے سنا اور بے آرامی میں دیکھتا تھا مگر جب کبھی میں پوچھتا کہ بھائی کیا حالت ہے تو جواب دیتا