مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 45
مکتوبات احمد ۴۵ جلد سوم میں آگئے اور تعجب کیا کہ یہ راز کا خط جس کو میں نے ابھی ڈاک میں روانہ کیا کیونکر اس کا حال ظاہر کیا گیا۔اس علم غیب نے ان کے ایمان کو بہت قوت دی۔چنانچہ انہوں نے با رہا مجھے جتلایا کہ اس خط سے خدا پر میرا ایمان بہت بڑھ گیا۔اُس خط کو وہ ہمیشہ اپنی کتاب جیبی میں بطور تبرک رکھا کرتے تھے۔ایک مرتبہ انہوں نے خلیفہ محمد حسین کو بھی جو وزیر اعظم پٹیالہ تھے بڑے تعجب سے وہ خط دکھایا اور موت سے ایک دن پہلے پھر اس خط کو مجھے دکھلایا کہ میں نے اپنی جیسی کتاب میں رکھ لیا تھا۔اور اس نشان کے ساتھ دوسرانشان یہ ہے کہ جب عالم کشف میں ان کا دوسرا خط مجھ کو ملا جس میں بہت بے قراری ظاہر کی گئی تھی تو میں نے اس جواب کے خط کو پڑھ کر ان کے لئے دعا کی اور مجھ کو الہام ہوا کہ " کچھ عرصہ کے لئے یہ روک اُٹھا دی جاوے گی اور ان کو اس غم سے نجات دی جائے گی۔یہ الہام ان کو اسی خط میں لکھ کر بھیجا گیا تھا جو زیادہ تر تعجب کا موجب ہوا۔چنانچہ وہ الہام جلد تر پورا ہوا اور تھوڑے دنوں کے بعد ان کی منڈی بہت عمدہ طور پر بارونق ہو گئی اور روک اُٹھ گئی۔اس نشان میں دو نشان ظاہر ہوئے۔اوّل قبل از وقت اطلاع دینا کہ ایسا واقعہ پیش آنے والا ہے۔دوئم قبولیت دعا سے اطلاع ہونا کہ منڈی پھر بارونق ہو جائے گی ،، ! نواب صاحب نے اس واقعہ کو اپنی نوٹ بک میں درج کیا تھا اور محمد حسین خان صاحب وزیر پٹیالہ کو بھی میرے سامنے اپنی کتاب دکھائی تھی۔وزیر صاحب کی مجلس میں بیٹھنے والے لوگ اور لدھیانہ کے کئی آدمی اس واقعہ کے گواہ ہیں۔نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۹۷،۵۹۶