مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 503
مکتوبات احمد ۳۶۳ مکتوب نمبر ۴ لد حضرت اقدس کا جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جلد سوم میں نے آپ کا خط اوّل سے آخر تک تمام پڑھ لیا ہے۔ اگرچہ سرکاری نوکری جو پچاس روپیہ آپ کو ملتے ہیں ایک ظاہر بین شخص کی نظر میں اس کو چھوڑنا اور پچیس روپیہ پر جو وہ بھی ابھی ایک ظنی بات ہے قناعت کرنا دنیوی مصلحت کے برخلاف ہے لیکن آپ جیسا آدمی جو استقامت اور اخلاص اور تو کل علی اللہ کا ہنر اپنے اندر رکھتا ہو۔ اس کے لئے در حقیقت ان خیالات سفلیہ کی پیروی کرنا ضروری نہیں ۔ یہ سچ ہے کہ عمر نا پائدار اور اس جگہ کی صحبت از بس غنیمت ہے اور بہر حال خدا تعالیٰ رزاق ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر یہ فرض کر لیں کہ کسی دن میگزین کا سلسلہ بند ہو جائے گا مگر خدا تعالیٰ کے فضل کا سلسلہ بند نہیں ہو سکتا۔ چو از راه حکمت به بندد دری کشاید بفضل و کرم دیگری آپ کے صدق و ثبات پر نظر کر کے میری رائے یہی ہے کہ آپ تو گلا علی اللہ اس نوکری کو لعنت يه بھیجیں اور اس صحبت کو غنیمت سمجھیں اور بالفعل پچیس روپیہ پر قاعت کریں۔ ۱۴ دسمبر ۱۹۰۳ء والسلام خاکسار مرزاغلام احمد