مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 503

مکتوبات احمد ۳۶۳ مکتوب نمبر ۴ حضرت اقدس کا جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته جلد سوم میں نے آپ کا خط اوّل سے آخر تک تمام پڑھ لیا ہے۔اگر چہ سرکاری نوکری جو پچاس روپیہ آپ کو ملتے ہیں ایک ظاہر بین شخص کی نظر میں اس کو چھوڑ نا اور پیش رو پہ پر جو وہ بھی ابھی ایک ظنی بات ہے قناعت کرنا دنیوی مصلحت کے برخلاف ہے لیکن آپ جیسا آدمی جو استقامت اور اخلاص اور تو کل علی اللہ کا ہنر اپنے اندر رکھتا ہو۔اس کے لئے درحقیقت ان خیالات سفلیہ کی پیروی کرنا ضروری نہیں۔یہ سچ ہے کہ عمر نا پائدار اور اس جگہ کی صحبت از بس غنیمت ہے اور بہر حال خدا تعالیٰ رزاق ہے۔زیادہ سے زیادہ اگر یہ فرض کر لیں کہ کسی دن میگزین کا سلسلہ بند ہو جائے گا مگر خدا تعالیٰ کے فضل کا سلسلہ بند نہیں ہوسکتا۔چو از راه حکمت بندد درے کشاید بفضل و کرم دیگرے آپ کے صدق و ثبات پر نظر کر کے میری رائے یہی ہے کہ آپ تو تکلا علی اللہ اس نوکری کو لعنت بھیجیں اور اس صحبت کو غنیمت سمجھیں اور بالفعل بچیں۔پر قناعت کریں۔والسلام ۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء خاکسار مرزا غلام احمد