مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 499
مکتوبات احمد ۳۵۹ جلد سوم پورا استحکام پکڑیں گی۔اس میں انشاء اللہ تعالیٰ ترقی ہوگی اور یہ بڑی عمر پائے گا۔بفرض محال اگر کوئی صورت دگرگوں بھی ہو تو میگزین کی عمر بالمقابل ہماری اپنی عمر کے کیا ہستی ہے۔خاکسار خود اپنی عمر پر کیا اعتبار کر سکتا ہے۔یہی غنیمت ہے کہ یہ چند روزہ ایام زندگی صادق مامور کی پاک صحبت و معیت میں گزر جاویں اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت غیر متناہی حاصل ہوسکتی ہے۔۔یہ پچیس روپیہ ماہوار کی جو تجویز ہوئی ہے اس میں عاجز کا بخوبی گزارہ چل سکتا ہے۔خاکسار بچپن سے بالکل سادگی سے زندگی بسر کرنے کا عادی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی صورت فراخی نکل آوے تو وہ تو اس جواد کریم کا خاص رحم ہے۔اس کی نعمت کے لینے سے کون انکار کر سکتا ہے ور نہ ایسے تو میں معمولی قلیل سے قلیل چیز پر بھی اکتفا کر سکتا ہوں۔خاکسار تو اس کو خاص ترحم و فضل الہی سمجھتا ہے کہ ایک تو گزارہ کے لئے صورت نکل آئی۔دوم پیارے امام الزمان علیہ الصلوۃ والسلام کے فیوض صحبت سے بہرہ اندوز ہونے کا ایک عمدہ موقعہ حاصل ہوا جو عین دلی منشا تھا اور جس کے لئے عرصہ سے در پے تھا۔۔یہ مسئلہ کہ جس نیک کام کرنے کے لئے صافی نیت و سچے دل کے ساتھ انسان کوشش کرتا ہے خواہ بظاہر وہ کیسا ہی مشکل کام ہو۔اللہ تعالیٰ الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ “ کی بنا پر اس کو اس کام میں ضرور ہی کا میابی بخشتا ہے۔آج عاجز کو روز روشن کی طرح کھل گیا ہے۔خاکسار کئی سال سے اس مدعا کے در پے تھا۔مگر اب چار پانچ ماہ سے تو برابر اس مدعا کے حصول کے لئے خلوص نیت سے دعاؤں میں لگا رہا۔کئی دفعہ استخارہ کئے اور دعاؤں میں تو بہت ہی کثرت کی۔ان دعاؤں و استخاروں کے بعد خوا میں بھی دیکھیں۔جن سب کا ماحصل یہی تھا کہ اس جگہ دارالامان میں رہنا مفاد دارین کے لئے ضروری ہے اور اسی میں کامیابی ہوگی بلکہ بعض اوقات دعا کی حالت میں غنودگی سی آئی اور اس غنودگی میں اس فائز المرامی کا تمام نقشہ دکھلایا گیا مگر باوجود یکہ دوماہ سے اس قسم کی خوا ہیں آرہی تھیں مگر پھر بھی خاکسار دعاؤں میں لگا رہا۔ان تمام کیفیات کا تذکرہ مجملاً اپنے قدیمی عزیز بھائیوں برادرم مکرم مولوی شیر علی صاحب بی۔اے۔و برادرم مخدوم مفتی محمد صادق صاحب سے کیا جو میرے ہم وطن و ابتدائے بچپن کے عزیز اور ابتدائی واقف ہیں۔ان کا بھی خاکسار کے ساتھ اتفاق رائے ہوا۔