مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 495
مکتوبات احمد ۳۵۵ یہ خط حضرت اقدس نے ان ایام میں چوہدری صاحب کو لکھا جب کہ وہ شاہ پور میں تھے۔انہوں نے اپنے بعض ابتلاؤں کا ذکر کر کے ایک عریضہ حضرت کے حضور لکھا تھا اس کا جواب حضرت نے حسب ذیل فرمایا۔(عرفانی کبیر ) مکتوب نمبر ۳ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جلد سوم مجی اخویم منشی الہ داد صاحب کلرک سلّمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔یادر ہے کہ ہر ایک مومن کے لئے کسی حد تک تکالیف اور ابتلا کا ہونا ضروری ہے اس کو صدق دل سے برداشت کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ کی رحمت کا انتظار کرنا چاہیئے۔جو شخص اس بات پر یقینی ایمان لاتا ہے کہ میرا خدا ہے جو قادر اور کریم اور رحیم اور علیم ہے اس کو اپنے ایمان کے موافق استقامت اور استقلال دکھانا چاہئے۔وہ خدا تو قادر ہے ایک دم میں مشکلات پیش آمدہ کو حل کر دے مگر بندہ کی تربیت کے لئے جو اس کے مصالح کسی بنا پر کسی حد تک اس کا ابتلا چاہتے ہیں۔ان مصالح کو ترک کرنا حقیقی رحمت کے برخلاف ہے۔سو یقین رکھو کہ وہ خدا موجود ہے جو ہر ایک مصیبت کو ہر ایک دم میں دور کر سکتا ہے اور وہ اس سے بے خبر نہیں ہے مگر اس کی مصلحت اور حقیقی رحمت یہ کام کر رہی ہے۔اپنی نمازوں میں اپنی ہی زبان میں اپنی مشکلات کے لئے دعا کرتے رہو۔قیام میں، رکوع میں ، سجود میں ، التحیات میں ، ہر ایک وضع میں دعا کرو۔کوئی نیا امر نہیں ہے جس مومن سے خدا پیار کرتا ہے اس کو کسی قد را بتلا کا مزہ چکھاتا ہے تا اس کی آنکھ کھلے اور وہ سمجھے کہ دنیا کیا چیز ہے؟ اور کس قدر تلخیوں کی جگہ ہے۔سوضرور ہے کہ کسی قدر یہ دکھ پہنچیں اور در حقیقت کوئی دکھ دکھ نہیں صرف ایمان کا قصور دکھ ہے۔صدق دل سے اپنے تئیں خدا کے حوالہ کرو اور یقین سے سمجھو کہ وہ ان لوگوں کو ضائع نہیں کرتا جو اس کے ہو جاتے ہیں۔کچی تو بہ کرو اور گنا ہوں سے اپنی ہی زبان میں خدا سے معافی چاہوتا وہ رحم کرے۔یہ کوئی نئی بات