مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 487
مکتوبات احمد ۳۴۷ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۱۲ مجی اخویم سید فضل شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے آفت زلزلہ کے وقت اور روز سے مجھ کو اطلاع نہیں دی بلکہ یہ بھی اطلاع نہیں دی کہ وہ آفت جس کا نام زلزلہ رکھا گیا ہے۔کیا وہ حقیقت میں زلزلہ ہے یا کوئی اور آفت شدیدہ ہے جو زلزلہ کے رنگ میں ہے۔اس لئے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ بہت مدت تک ہماری جماعت باہر جنگل میں تکلیف اٹھاوے۔ہاں اگر شہر میں کچھ زور طاعون کا ہے تو اس صورت میں شہر میں آنا مناسب نہ ہوگا۔اور میں بھی چاہتا ہوں کہ ایک دو ہفتہ کے بعد یا جب خدا تعالیٰ چاہے باغ سے قادیان کے اندر چلا جاؤں۔میری یہی تمنا ہے کہ اس آنے والی آفت کا خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ مفصل حال معلوم ہو جائے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر بہت خوشی ہو گی اگر خدا تعالیٰ کی وحی سے تاریخ اور وقت کا پتہ لگ جائے۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔بیشک سب احباب جماعت جو باہر ہیں شہر میں آجائیں۔اگر لوگ ٹھٹھا کریں تو کہہ دیں آج تم ٹھٹھا کرتے ہو اور وہ وقت آنے والا ہے جو ہم ٹھٹھا کریں گے۔ہر ایک کے لئے خدا تعالیٰ نے وقت مقرر کیا ہے۔۱۸ رمئی ۱۹۰۵ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد