مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 483

مکتوبات احمد ۳۴۳ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبرے مجی عزیزی ا خویم سید فضل شاہ صاحب ستلمه نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته افسوس! کہ اس وقت میں باعث دردسر جو بوجہ گرمی ہو گئی ہے حاضر نہیں ہو سکا۔آپ نے جو چند کلمات نصیحت کے لئے لکھے ہیں اسی قدر کافی ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے رب کریم قادر قیوم کے احکام کو یا د رکھیں اور وہ یہ کہ نماز پنجگانہ دلی خلوص سے ادا کریں۔ہمیشہ نماز میں بعض دعائیں اپنی پنجابی زبان میں کر لیا کریں اور نماز میں اپنی زبان میں بہت دعا کیا کریں۔جہاں تک ممکن ہو نماز تہجد کا بھی التزام رکھیں اور اس میں بھی اپنی زبان پنجابی میں دعا کیا کریں موت کو یا درکھیں کہ یہ موت جب آتی ہے تو باز کی طرح ایک پوشیدہ جست سے اپنا شکار بنا لیتی ہے جہاں تک ممکن ہو ہمیشہ کوشش کریں کہ جلد جلد اس جگہ آیا کریں کہ جس طرح ہر ایک چیز فانی ہے اسی طرح ہمارے وجود کی بھی حالت ہے۔ایک وقت آنے والا ہے کہ ہمارا وجود اور یہ ہماری مجلسیں خواب و خیال کی طرح ہو جائیں گی۔اور لازم ہے کہ بد صحبت سے پر ہیز کر یں۔دل کو گناہ کے منصوبوں سے پاک رکھیں کہ بد قسمت ہے وہ انسان اور بد بخت ہے وہ آدمی جس کا دل ہمیشہ گناہ کے منصوبے سوچتا ہے۔آپ کو دُنیا کے شغل میں کئی ابتلا پیش آئیں گے ہر ایک ابتلا میں خدا پر بھروسہ کریں۔نہ عمدہ حالت کسی تکبر کا موجب ہو اور نہ کسی تنگی کی حالت بے صبر کر سکے۔باتیں بہت ہیں مگر بالفعل اس پر کفایت کرتا ہوں کہ خدا کا خوف اور اس کی مخلوق سے ہمدردی اور اپنی بیوی اور اہل سے طریق رحمت اور درگزر اور اولاد کو دین کی رغبت دینا اور بھائی کے ساتھ حلم اور خلق کے ساتھ معاشرت کرنا اور عام لوگوں کے ساتھ حتی المقدور بھلائی اور ترک شر سے پیش آنا اور اپنے خدا اور اس کے رسول کو سب پر مقدم رکھنا اور چالیس دن میں سے ایک مرتبہ خدا تعالیٰ کے خوف سے رونا یہی طریق سعادت ہے