مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 460 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 460

مکتوبات احمد جلد سوم (نوٹ) اس مکتوب شریف سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے خدام کی عملی تربیت کس طرح فرماتے تھے۔زمانہ حال کے پیروں اور مشایخ کی طرح غیر مسنون اور بدعتی طریقوں پر چلہ کشیاں نہیں کراتے تھے بلکہ جو صحیح اور مجرب صراط مستقیم ہے اس پر لے جاتے تھے۔دعاؤں پر آپ کا بہت زور تھا اور استغفار اور درود شریف کے پڑھنے کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتے تھے اور یہ آپ کا خود تجربہ کردہ نسخہ تھا۔دعاؤں کے سلسلہ میں آپ نے بھی اس امر کی طرف بھی توجہ کیا کہ ادعیہ ماثورہ کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔یہ اس لئے کہ اپنی زبان میں انسان اپنے جذبات اور مطلو بات کو نہایت وضاحت سے بیان کر سکتا ہے اور وہ نفس مدعا کو سمجھتے ہوئے اپنے قلب میں جوش اور خشوع پیدا کرنے میں آسانی پاتا ہے۔جہاں تک میری تحقیقات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس تعلیم میں پہلے شخص ہیں۔عربوں کی زبان تو عربی تھی اس لئے ماثورہ ادعیہ کے وقت ان کے مفہوم اور منشا سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے قلوب خشوع و خضوع سے بھر جاتے تھے مگر دوسری اقوام جب تک اپنی زبان میں بھی دعائیں نہ کریں وہ کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی۔اس مکتوب سے خود حضرت اقدس کے معمولات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔(عرفانی کبیر )