مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 40

مکتوبات احمد ۴۰ جلد سوم مصداق نہ تھا اور حضرت اقدس کے اس مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے نواب علی محمد خان آف جھجر کو بھی اس کا مصداق سمجھا اور واقعات نے اس کی تصدیق کی کہ وہ آخر وقت تک اخلاص وارادت کا ایک پیکر بنا رہا۔حضرت اقدس نے جنوری ۱۸۸۲ء میں ہی ایک مکتوب میر عباس علی صاحب کے نام لکھا تھا جو مکتوبات احمدیہ کی جلد اول میں مکتوب نمبر ۳ کے عنوان سے طبع ہوا ہے اس میں فرمایا : خصوص ایک عجیب کشف سے جو مجھ کو ۳۰ / دسمبر ۱۸۸۲ء بروز شنبہ کو یک دفعہ ہوا۔آپ کے شہر کی طرف نظر لگی ہوئی تھی اور ایک شخص نا معلوم الاسم کی ارادت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی جو باشندہ اور ہانہ ہے۔اس عالم کشف میں اس کا تمام پستہ ونشان سکونت بتلا دیا جواب مجھ کو یاد نہیں رہا صرف اتنایا درہا کہ سکونت خاص لودہانہ اور اس کے بعد اس کی صفت میں یہ لکھا ہوا پیش کیا گیا۔سچا ارادت مند اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ لَ یعنی اس کی ارادت اتنی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان۔بعض لوگ میر عباس علی صاحب کے ارتداد پر اور اب بھی کبھی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اس کے متعلق یہ الہام ہوا تھا، یہ غلط ہے۔اور ہانہ کے کسی شخص کے متعلق ہوا تھا اور اس کا نام و پتہ اللہ تعالیٰ نے بتلا کر پھر آپ کے حافظہ سے اسے محو کر دیا اور ۱۸ جنوری ۱۸۸۳ء کو جو مکتوب آپ نے نواب علی محمد خان صاحب کے نام لکھا اس میں آپ نے اپنا خیال نواب صاحب میں ہی اس حالت کے پیدا ہو جانے کا ظاہر فرمایا اور واقعات نے بتایا کہ اس کے مصداق نواب علی محمد خان رضی اللہ عنہ ہی تھے۔اس مکتوب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب کے تعلقات حضرت اقدس سے ۱۸۸۲ء سے پہلے قائم ہو چکے تھے اور یہ زمانہ تالیف براہین احمدیہ ہے۔( عرفانی کبیر ) تذکره صفحه ۴۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء