مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 39
مکتوبات احمد ۳۹ جلد سوم مکتوب نمبرا مخد و می مکرمی عنایت فرمائے ایں عاجز نواب صاحب علی محمد خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ھذا اس عاجز نے ماہ صفر ۱۳۰۰ھ میں آپ کے حق میں بہت سی دعائیں کیں اور میں امید نہیں رکھتا کہ کوئی گدا حضرت کریم میں اس قدر دعائیں کر کے بھی محروم رہے۔سواگر چہ تعین نہیں ہو گی مگر امید واثق ہے کہ خدا وند کریم آپ کے حال پر جس طرح چاہے گا کسی وقت رحم کرے گا۔وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ۔میں نے قریب صبح کے کشف کے عالم میں دیکھا کہ ایک کاغذ میرے سامنے پیش کیا گیا اس پر 66 لکھا ہے کہ ایک ارادت مند لدھیانہ میں ہے۔پھر اس کے مکان کا مجھے پتہ بتایا گیا اور نام بھی بتایا گیا جو مجھے یاد نہیں اور پھر اس کی ارادت اور قوت ایمانی کی یہ تعریف اسی کا غذ میں لکھی ہوئی دکھائی۔أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون شخص ہے مگر مجھے شک پڑتا ہے کہ شاید خدا وند کریم آپ ہی میں وہ حالت پیدا کرے یا کسی اور میں۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔اپنی خیر و عافیت سے اطلاع بخشیں۔والسلام ۱۸/جنوری ۱۸۸۳ء الراقم عاجز غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور نوٹ: اس نوٹ میں حضرت حجتہ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو لو دہانہ کے ایک شخص کے اخلاص و ارادت کے متعلق اطلاع دی گئی ہے۔اگر چہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا پتہ، نشان بتا دیا تھا مگر اپنی مشیت خاصہ کے تحت اسے بھلا دیا۔ایک وقت میں آپ اس کا مصداق میر عباس علی صاحب کو بھی سمجھتے رہے۔اس وجہ سے کہ وہ خدمت دین میں بظاہر کامل اخلاص وارادت کا اظہار کر رہا تھا لیکن اس کے انجام نے ثابت کر دیا کہ وہ اس کا تذکره صفحه ۴۵، ۲۶ مطبوعه ۲۰۰۴ء