مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 452

مکتوبات احمد ۳۱۲ که من بنده ناکس و کهترم نہ گوہر شناسم نه با گوهرم کیونکہ میں ایک کمزور اور عاجز انسان ہوں نہ جوہر شناس ہوں نہ جوہری بود چشم احرار از عیب پاک اگر جاہلے عیب بیند چه باک شریفوں کی آنکھ تو عیب گیری کے نقص سے پاک ہوتی ہے ہاں جاہل عیب بین ہوا کرے تو اس کا کوئی مضائقہ نہیں ۔ جلد سوم الـ ۶ ستمبر ۱۸۷۲ء ☆ بندہ آئم غلام احمد علی اللہ عنہ (نوٹ ) اس نظم میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرۃ کے مختلف پہلوؤں پر جو روشنی پڑتی ہے وہ ایک مختصر نوٹ میں بیان نہیں ہو سکتی تاہم حضرت کی اس محبت و اخلاص کا پتہ لگتا ہے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آپ کو تھا۔ (عرفانی کبیر ) بدر جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۹ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحہ ۲،۱۔ نوٹ: اس نظم کا ترجمہ ہم نے درثمین فارسی مترجم ، ترجمه فرمودہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے صفحہ ۳۱۳ تا ۳۲۴ سے لیا ہے۔ (ناشر)