مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 447

مکتوبات احمد که انکار بر ٣٠٧ به غمخواریت گویم اے نیک مرد! نه باید به غمخوار دل رنجه کرد اے نیک مرد میں تجھے بطور غمخوار عرض کرتا ہوں اور غم خوار سے ناراض نہیں ہونا چاہیے زندگی نبی نشان است بر موت دلها جلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے انکار ۔ منکروں کے دلوں کی موت کی کھلی کھلی علامت ہے جہاں جملہ مرده فتادست و زار یکی زنده او هست از کردگار سارا جہان مردہ اور بیمار ہے خدا کی طرف سے صرف وہی ایک زندہ ہے چنین است ثابت بقول سروش اگر راز معنی نیابی خموش الہام الہی سے یہی ثابت ہے۔ اگر تیری سمجھ میں یہ راز نہ آئے تو چپ رہ اگر در ہوا ہمچو مرغان پری گر برسر آب ها بگذری اگر پرندوں کی طرح تو ہوا میں اُڑنے لگے یا پانی پر چلنے لگے وگر خاک را زر کنی از فسوں سے سلامت باہر نکل آئے یا پھونک مار کر مٹی کو سونا بنا دے و گر ز آتش آئی سلامت بروں و اور اگر تو آگ اگر منکری از حیات رسول سراسر زیاں است و کار فضول لیکن اگر تو رسول کی زندگی کا منکر ہے تو یہ سب باتیں سراسر فضول اور بے کار ہیں خدایش چو خواندہ گواہ جہاں چرا داندش عاقل از غائبان خدا نے جب اسے اہل دنیا کے لیے شاہد فرمایا تو عقلمند اسے غائب کیوں سمجھے اگر منکر او خبر داشتے بجاں دامنش نیز نگذاشتے اگر منکر کو اس کی خبر ہوتی تو خواہ جان دینی پڑتی مگر اس کا دامن نہ چھوڑتا جلد سوم بمہر منیرش خطاب از خداست دریغا ازیں پس گمانها چر است خدا کی طرف سے مہر منیر اس رسول کا خطاب ہے تو افسوس اس کے بعد فضول گمان کیوں ہیں اگر یکدے گم شود آفتاب شود عالم از تیرگی ها خراب اگر آفتاب ایک دم کے لیے بھی غائب ہو جائے تو دنیا اندھیرے میں مبتلا ہو جائے