مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 400

مکتوبات احمد ۲۶۲ جلد سوم میرزا غلام احمد صاحب قادیانی مدعی مهدویت و مسیحیت اپنے دعوئی میں صادق ہیں یا کا ذب؟ اگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ (مرزا صاحب) سچے ہوئے اور ہم ہدایت سے محروم ہو گئے تو آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کے ذمہ دار ہیں اور اگر وہ جھوٹے ہیں اور ہم نے نادانی سے ان کو مان لیا تو ہماری گمراہی کا وبال سب آپ کے سر پر ہے۔اس کا جواب حضرت پیر سائیں جھنڈے والے صاحب نے جو لکھا۔وہ بھی درج ذیل ہے۔شہادت اول :۔ہمارے سلسلہ کا دستور ہے کہ مابین نماز مغرب وعشاء ہم اپنے مریدوں کے ساتھ حلقہ کر کے ذکر اللہ کیا کرتے ہیں۔ایک روز حلقہ میں بحالت کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے دیکھا تو ہم نے آپ سے سوال کیا کہ یا حضرت ! یہ شخص مرزا غلام احمد کون ہے؟ تو آپ نے جواب دیا۔از ماست 66 یعنی مرزا غلام احمد تو ہماری طرف سے ہے۔شہادت دوم :۔ہمارے خاندان کا وطیرہ ہے کہ بعد از نماز عشاء ہم کسی سے کلام نہیں کرتے اور سو جاتے ہیں یہی سنت رسول ہے۔ایک دن خواب میں ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔تو ہم نے سوال کیا کہ حضور مولویوں نے اس شخص ( حضرت مسیح موعود ) پر کفر کے فتوے لگا دئے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا۔در عشق ما دیوانه شده است یعنی مرزا غلام احمد تو ہمارے عشق اور محبت میں دیوانہ ہیں۔شہادت سوم :۔ہمارا سلسلہ اور خاندان تہجد گزار ہے۔اس لئے ہم روزانہ رات کو تین بجے کے بعد اٹھتے ہیں اور بعد نماز تہجد کروٹ پر لیٹے رہتے ہیں اور اسی وضو سے صبح کی نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ایک دن اسی کروٹ لیٹنے کی حالت میں کچھ وقت غنودگی طاری ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے۔اس وقت ہماری حالت نیند اور بیداری کے درمیان تھی تو ہم نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کی۔یا رسول اللہ ! اب تو سارا ہندوستان چھوڑ عرب کے علماء نے بھی کفر کے فتوے دے دیئے تو آپ نے بڑے جلال میں تین بار