مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 399

مکتوبات احمد ۲۶۱ جلد سوم احباب بمبئی حضرت سیٹھ اسماعیل آدم سلمہ اللہ تعالی کے نام تعارفی نوٹ بمبئی کو اپنی تجارتی اور سیاسی حیثیت سے جو اہمیت حاصل ہے وہ ظاہر ہے۔بمبئی گویا باب عالم ہے۔جن کو بمبئی کو دیکھنے کا کبھی موقع ملا ہے وہ وہاں کی مصروف زندگی کو دیکھ کر یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یہاں کے رہنے والوں کو مذہب کے متعلق سوچنے کا بھی وقت مل سکتا ہے۔بمبئی ایک بین الاقوامی شہر بن گیا ہے۔ہندوستان کے اس سب سے بڑے شہر میں احمدیت کی بنیا د ۱۸۹۲ء میں رکھی گئی اور سب سے پہلے بابا زین الدین ابراہیم جو ایک کپڑے کی مل میں انجینئر تھے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اس وقت ہمارے محترم بھائی سیٹھ اسماعیل آدم بد و شباب میں تھے۔وہ ایک معزز میمن خاندان کے فرد تھے۔اسی قبیلہ کے جس کے ایک فرد حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ تھے۔اسی زمانہ کا اسماعیل آدم اپنی قوم کے نوجوانوں میں ایک ہونہار اور علمی مذاق کا نوجوان تھا۔مذہب کی اہمیت مقبولیت کے رنگ میں گو سمجھتا تھا مگر مذہب کی عملی روح اس زمانہ کے تاجر نو جوانوں کی طرح نہ تھی۔ہاں علمی مذاق تھا۔اخبار بینی اور اخبار نویسی کا بھی مذاق تھا۔یہی مذاق انہیں احمدیت کے لئے رہنمائی کرنے والا ہوا۔۸۵ - ۱۸۸۶ء کے قریب ان کے اندر حق پرستی اور حق جوئی کی فطرتی چنگاری سلگ اُٹھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اخبار اذکار نے ان کو تحقیق حق کی طرف متوجہ کیا۔اس کے متعلق مفصل حالات ان کے تذکرہ میں آئیں گے انہوں نے اپنے پیر صاحِبُ الْعَلَمُ (جھنڈے والا پیر ) سے ایک حلفی بیان چاہا اور فارسی زبان میں ایک خط لکھا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ہم تو دنیا دار ہیں اور روحانی آنکھوں سے اندھے ہیں اور آپ لاکھوں انسانوں کے پیشوا اور رہنما ہیں۔صاحب بصیرت ہیں۔لہذا آپ حلفاً جواب دیں کہ