مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 394

مکتوبات احمد ۲۵۶ جلد سوم کوئی ایسی اور بدصورتی ہے جس سے وہ نفرت کے لائق ہے۔لیکن بجز اس کے کوئی عذر صحیح نہیں ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ لڑکیوں کے اپنے والدین کے گھر میں اور اخلاق ہوتے ہیں اور جب شوہر کے گھر آتی ہیں تو پھر ایک دوسری دنیا ان کی شروع ہوتی ہے۔ماسوا اس کے شریعت اسلامی میں حکم ہے کہ عورتوں کی عزت کرو اور ان کی بد اخلاقی پر صبر کرو اور جب تک ایک عورت پاک دامن اور خاوند کی اطاعت کرنے والی ہو تب تک اس کے حالات میں بہت نکتہ چینی نہ کرو کیونکہ عورتیں پیدائش میں مردوں کی نسبت کمزور ہیں۔یہی طریق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی بد اخلاقی کی برداشت کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنی عورت کو تیر کی طرح سیدھی کر دے وہ غلطی پر ہے۔عورتوں کی فطرت میں ایک کبھی ہے۔وہ کسی صورت سے دور نہیں ہوسکتی۔رہی یہ بات کہ سید بشیر الدین نے بڑی بد اخلاقی دکھلائی ہے۔اس کا یہ جواب ہے کہ جو لوگ لڑکی دیتے ہیں۔ان کی بداخلاقی قابل افسوس نہیں۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ سے یہی دستور چلا آتا ہے کہ لڑکی والوں کی طرف سے اوائل میں کچھ بداخلاقی اور کشیدگی ہوتی ہے اور وہ اس بات میں بچے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی جگر گوشہ لڑکی کو جو ناز و نعمت میں پرورش پائی ہوتی ہے۔ایک ایسے آدمی کو دیتے ہیں جس کے اخلاق معلوم نہیں اور وہ اس بات میں بھی سچے ہوتے ہیں کہ وہ لڑکی کو بہت سوچ اور سمجھ کے بعد دیں کیونکہ وہ ان کی پیاری اولاد ہے اور اولاد کے بارہ میں ہر ایک کو ایسا کرنا پڑتا ہے اور جب تم نے شادی کی اور کوئی لڑکی پیدا ہوئی تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔لڑکی والوں کی ایسی باتیں افسوس کے لائق نہیں ہوا کرتیں۔ہاں جب تمہارا نکاح ہو جائے گا اور لڑکی والے تمہارے نیک اخلاق سے واقف ہو جائیں گے تو وہ تم پر قربان ہو جائیں گے۔پہلی باتوں پر افسوس کرنا دانا ئی نہیں۔غرض میرے نزدیک اور میری رائے میں یہی بہتر ہے کہ اس رشتہ کو مبارک سمجھو اور اس کو قبول کرلو۔اور اگر ایسا تم نے کیا تو میں بھی تمہارے لئے دعا کروں گا۔اپنے کسی مخفی خیال پر بھروسہ مت کرو۔جوانی اور ناتجربہ کاری کے خیالات قابل اعتبار نہیں ہوتے۔موقعہ کو ہاتھ سے دینا سخت گناہ ہے۔اگر لڑ کی بد اخلاق ہوگی تو میں اس کے لئے دعا کروں گا کہ اس کے اخلاق تمہاری مرضی کے موافق ہو جائیں گے اور سب کبھی دور ہو جائے گی۔ہاں اگر لڑکی کو دیکھا نہیں ہے تو یہ ضروری ہے کہ اول اس کی شکل و شباہت سے اطلاع حاصل کی جائے۔لڑکپن اور طفولیت کے زمانہ کی اگر بد شکل بھی ہو