مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 34

مکتوبات احمد ۳۴ جلد سوم اکثر وقت عبادت ، ذکر الہی اور مطالعہ کتب دینیہ میں گزرتا تھا اور حمایت اسلام کی اعانت میں اکثر جلسے ان کے ہی مکان پر ہوا کرتے تھے۔وہ ایک لمبے قد کے خوش رو انسان تھے اور ان کے چہرہ کو دیکھ کر ہی ان کی متقیانہ زندگی کا اثر ہوتا تھا۔داڑھی کو حنا کرتے تھے۔لباس نہایت سادہ ہوتا تھا اور چلتے پھرتے ذکر الہی میں مصروف رہتے تھے۔چونکہ پرانی طرز کے صوفی تھے اس لئے ہر وقت تسبیح ہاتھ میں رہتی تھی۔نہایت خوش اخلاق ، ملنسار، منکسر المزاج اور خندہ پیشانی رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کی ارادت ۸۲ ۱۸۸۳ء میں شروع ہوئی اور یہ براہین احمدیہ کا اثر تھا۔نواب صاحب خود صاحب علم تھے اور علوم عربیہ دینیہ اور تصوف کے ماہر تھے۔میر عباس علی صاحب ( اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں کو معاف کرے ) اس وقت بڑے سرگرم معاونین میں سے تھے اور ان معاونین کی جماعت میں نواب علی محمد خان بھی پیش پیش تھے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت تک اس پایہ کا کوئی آدمی بھی حضرت اقدس کے ارادت مندوں میں شریک نہ ہوا تھا۔اس لئے کہ گو اس وقت ان کی وہ خاندانی حکومت کا جاہ وجلال باقی نہ تھا مگر ابھی اس دور حکومت کے اثرات باقی تھے اور وہ اپنی خاندانی عظمت کے علاوہ اپنی عملی زندگی اور ہمدردی اسلام کے سچے جوش کی وجہ سے مشار الیہ تھے۔چونکہ حضرت قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرموں کا اڈا پاس ہی تھا اور وہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بڑے بے ریا اور مخلص اور جان نثار اور دلیرانسان تھے۔اکثر نواب صاحب کے ہاں ان کی نشست و برخاست رہتی اور حضرت اقدس کے حالات اور تازہ واقعات کا تذکرہ رہتا۔نواب صاحب کو حضرت اقدس کے ساتھ غایت درجہ کا عشق اور محبت تھی۔اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی ذات میں ان نشانات و آیات کا مشاہدہ کیا تھا جو خدا کے مرسلوں کے سوا کسی اور کو نہیں دیئے جاتے۔حضرت اقدس نے ان نشانات کا اپنی تصانیف میں بھی ذکر فرمایا ہے اور ان خطوط میں بھی جو میں ذیل میں درج کر رہا ہوں ، بعض نشانات کا ثبوت ملے گا۔نواب علی محمد خاں صاحب بیعت اولی میں شریک تھے اور سابقین الاولین